وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کا تجارتی تعلقات، بارڈر سیکورٹی اور خطے کی صورتِحال پر تبادلہ خیال
- وزیراعظم نے افغان طالبان حکام پر مشترکہ دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کے سرحد پار دہشت گردی سے متعلق “سنگین سیکورٹی خدشات” کا حل نکالا جا سکے۔ وزیراعظم کے دفتر کا بیان
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو اشک آباد میں بین الاقوامی امن اور اعتماد کے سال کے پروگراموں کے سلسلے میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیژشکیان سے ملاقات کی ہے، جس میں دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعاون کو مضبوط کرنے کے عزم کو دہرایا۔
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے رواں سال کے آغاز میں ایک دوسرے کو بیرونی جارحیت کے واقعات کے دوران دی جانے والی حمایت کو سراہا۔
وزیراعظم نے 22ویں پاک ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کی کامیاب میٹنگ کا ذکر کیا اور دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے، بارڈر مارکیٹس کو فعال بنانے، بارڈر سیکورٹی کے تعاون کو بہتر بنانے اور خطے میں ٹرانسپورٹ روابط، بالخصوص اسلام آباد، تہران اور استنبول ریل راہداری کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے افغان طالبان حکام پر مشترکہ دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کے سرحد پار دہشت گردی سے متعلق “سنگین سیکورٹی خدشات” کا حل نکالا جا سکے۔
غزہ کی صورتِ حال پر بھی بات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں پر اپنے نقطۂ نظر کا تبادلہ کیا۔
صدر مسعود پیژشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کا خواہاں ہے اور اس تبادلۂ خیال کو بروقت اور تعمیری قرار دیا۔ حکام کے مطابق اس ملاقات نے روایتی طور پر قریبی تعلقات کی عکاسی کی ہے، جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔





















Comments