پالیسیوں نے زیورات کی صنعت کو نقصان پہنچایا ہے ، لاہور چیمبر
- زیورات سازی کا شعبہ بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے ، صدر فہیم الرحمٰن
پاکستان کی سونے اور زیورات کی صنعت قواعد وضوابط کے فقدان، ٹیکس رکاوٹوں، خام مال پر جی ایس ٹی اور سخت نگرانی کے باعث شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک عالمی مسابقت میں حصہ لینے سے قاصر ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سائیگول کے مطابق زیورات سازی کا شعبہ بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، مگر موجودہ حکومتی پالیسیاں اس کاروبار کو تقریباً مفلوج کر چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت 28 ارب ڈالر کا زیورات برآمد کر رہا ہے، جبکہ پاکستان ابھی تک اس دوڑ میں داخل ہی نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ خام مال پر سیلز ٹیکس نے صنعت کی کمر توڑ دی ہے، لہٰذا اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔
مزید کہا گیا کہ زیورات سازوں اور تاجروں کو صنعتی سہولیات، محفوظ کاروباری ماحول اور ٹیکس میں آسانیاں فراہم کی جائیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے انجمن تہفّظِ زرگران کے وفد کی چیمبر آمد کے موقع پر کیا، جس کی قیادت چیئرمین حماد مقصود گِل نے کی۔ وفد نے بتایا کہ ملک میں قیمتی پتھروں، آرٹیفیشل جیولری، خالص زیورات اور گولڈ ورک کی بڑی منڈی موجود ہے، جس میں دو ہزار کے قریب دکانیں اور دس ہزار سے زائد کاریگر کام کر رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ حکومت نے اس شعبے کو ’’صنعت‘‘ کا درجہ دیا ہے، لیکن بجلی اب بھی کمرشل ریٹ پر فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ بین الاضلاعی خام مال کی ترسیل کے دوران کسٹمز حکام کی غیرضروری پوچھ گچھ کاروبار کو مزید مشکل بنا دیتی ہے، جس سے برآمدات کے فروغ کی توقع ممکن نہیں رہتی۔
چیمبر کے صدر نے یقین دہانی کرائی کہ زیورات کے شعبے کے تمام مسائل متعلقہ حکام تک پہنچائے جائیں گے اور پالیسی اصلاحات کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر






















Comments