ایس پی ای ایل نے 575 کلوواٹ کا شمسی توانائی منصوبہ کامیابی سے شروع کردیا
- کمپنی کی قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت 4.1 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے
ایس پی ای ایل لمیٹڈ جو پہلے سنتھیٹک پروڈکٹس انٹرپرائزز لمیٹڈ کے نام سے جانی جاتی تھی نے 575 کلو واٹ (کے ڈبلیو) کا شمسی توانائی کا منصوبہ کامیابی سے شروع کر دیا ہے، جس کے ساتھ کمپنی کی قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت 4.1 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔
کمپنی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں اس پیش رفت کا اعلان کیا۔
نوٹس میں کہا گیا کہ ہمیں اپنے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) اقدامات میں ایک اور سنگِ میل کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ ایس پی ای ایل نے 575 کلو واٹ کا سولر پاور پراجیکٹ کامیابی سے شروع کر دیا ہے جو ہماری پہلے سے نصب شدہ 3.55 میگاواٹ گرین توانائی کی صلاحیت کو مزید بڑھاتا ہے۔
اس سے ہماری کل سولر توانائی کی صلاحیت اس قابل بن گئی ہے کہ ہم اپنی سالانہ بجلی کی ضروریات کا تقریباً 24 سے 29 فیصد صاف اور سبز قابلِ تجدید توانائی کے ذریعے پورا کرسکیں۔ یہ کامیابی ہمارے پائیدار اقدامات کے تئیں عزم اور ایک سبز، صاف پاکستان کے لیے ہماری وابستگی کو اجاگر کرتی ہے۔
ایس پی ای ایل پلاسٹک آٹو پارٹس، خوراک اور ایف ایم سی جی صنعت کے لیے پلاسٹک پیکجنگ، اور مولڈز و ڈائز کی تیاری اور فروخت میں سرگرم ہے۔
پاکستان میں متبادل توانائی، خاص طور پر سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ رہائشی و تجارتی شعبوں میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔
پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ (پی آر آئی ای ڈی)، جو ایک آزاد تھنک ٹینک ہے، کے مطابق پاکستان میں توانائی شعبے میں بے مثال سولرائزیشن ہو رہی ہے اور ملک بھر میں 33 گیگاواٹ کی صلاحیت کے سولر فوٹو وولٹک (پی وی) پینلز نصب کیے جا چکے ہیں۔
اس بڑھتے ہوئے رجحان نے فیصلہ سازوں کو قومی گرڈ اور توانائی شعبے پر اس کے اثرات کے حوالے سے غور و فکر پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ بجلی کی کھپت فی الحال مستحکم ہے۔
اس کے باوجود، اس نسبتاً سستی توانائی سے فائدہ اٹھانے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔
گزشتہ جولائی میں پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنی جے کے اسپننگ ملز لمیٹڈ نے اپنے اسٹریٹیجک اقدامات کے تحت 7 میگاواٹ اضافی سولر توانائی کی صلاحیت نصب کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔






















Comments
Comments are closed.