مالیاتی انتظام، خریداری اور ڈیٹا گورننس، حکومت نے انوائرنمنٹل اینڈ سوشل کمیٹمنٹ پلان کی منظوری دیدی
- منصوبہ پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈیولپمنٹ کے ملٹی فیز پروگرام کے تحت فیز ون میں شروع کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے انوائرنمنٹل اینڈ سوشل کمیٹمنٹ پلان (ای ایس سی پی) کی رسمی منظوری دے دی ہے، جو بین الاقوامی ترقیاتی ادارے (آئی ڈی اے) کے تعاون سے شروع کیا گیا ایک وفاقی اقدام ہے۔ اس منصوبے کا مقصد عوامی مالیاتی انتظام، خریداری کے نظام اور ڈیٹا گورننس کو مضبوط بنانا ہے۔
ای ایس سی پی منصوبہ پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈیولپمنٹ (پی آر آئی ڈی) کے ملٹی فیز پروگرام کے تحت فیز ون میں شروع کیا جا رہا ہے۔ اس پلان میں بیان کیا گیا ہے کہ پاکستان کی وزارت خزانہ اور شراکت دار وفاقی ادارے ماحولیاتی اور سماجی خطرات کو کس طرح مینیج کریں گے جب وہ پروگرام کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کریں گے۔ یہ منصوبہ ورلڈ بینک کے ساتھ فنانسنگ ایگریمنٹ کا قانونی طور پر پابند حصہ ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ منصوبہ بینک کے انوائرنمنٹل اینڈ سوشل اسٹینڈرڈز (ای ایس ایسز) کے مطابق ہو۔
منصوبے کے تحت وزارت خزانہ میں تین ماہ کے اندر ایک پروگرام مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) قائم کی جائے گی، جس میں ماحولیاتی اور سماجی ترقی کے ماہرین، عوامی شمولیت اور کمیونیکیشن اسپیشلسٹ شامل ہوں گے۔ اہم ادارے، جیسے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس، پاکستان پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس، ماحولیاتی اور سماجی فوکل پوائنٹس مقرر کریں گے۔ ای ایس سی پی میں ڈیجیٹل سسٹمز اور آئی ٹی ہارڈویئر میں سرمایہ کاری کے پیش نظر ای-ویسٹ مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
حکومت ای-ویسٹ کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) تیار اور اپنائے گی اور انہیں منصوبے کے آپریشنز مینوئل میں شامل کرے گی۔ پلان کے تحت باقاعدہ نگرانی کی جائے گی، بشمول ہر چھ ماہ بعد ماحولیاتی، سماجی، صحت اور حفاظتی کارکردگی کی رپورٹس ورلڈ بینک کو فراہم کرنا۔ ٹھیکیدار ہر ماہ ماحولیاتی اور سماجی ضوابط، لیبر اسٹینڈرڈز اور کوڈز آف کنڈکٹ پر عمل درآمد کی رپورٹ دیں گے، جس میں جبری اور بچوں کی محنت، جنسی استحصال اور ہراسانی سے بچاؤ کے اقدامات شامل ہوں گے۔
اس پلان میں حادثات اور واقعات کی رپورٹنگ کے لیے مفصل پروٹوکول بھی شامل ہے، جس کے تحت کسی سنگین واقعے کے 48 گھنٹوں میں ورلڈ بینک کو مطلع کیا جائے گا اور 10 دن کے اندر اصلاحی منصوبہ پیش کیا جائے گا۔
ای ایس سی پی سماجی اثرات، جیسے توانائی سبسڈیز اور ممکنہ حکومتی ری اسائزنگ کے اثرات، کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ منصوبے میں اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت پر زور دیا گیا ہے، جس میں بجٹ سے پہلے مشاورت، یونینز اور پروفیشنل ایسوسی ایشنز سے رابطہ، سہ ماہی شہری فورمز اور اقتصادی اصلاحات پر عوامی رائے شماری شامل ہیں۔
منصوبے کی منظوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے اہم عملی تیاری کے اقدامات مکمل کر لیے ہیں اور آئندہ چند ماہ میں ملٹی ایئر پبلک ریسورس ریفارم پروگرام کے فیز ون کو نافذ کرنا شروع کر دے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی اداروں کو جدید بنانے، مالی شفافیت بڑھانے اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے میں مدد دے گا جبکہ ماحولیاتی اور سماجی تحفظات عمل درآمد کا مرکز رہیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.