گل احمد کے گودام میں آتشزدگی ، نقصان کا تخمینہ لگانے کیلئے تحقیقات جاری
- کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے انشورنس فراہم کنندگان ودیگر کے ساتھ تعاون کیا جارہا ہے
گل احمد ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ (جی اے ٹی ایم) کے ایک گودام میں آگ لگ گئی، جس سے کچھ ملازمین اور مستقل اثاثے متاثر ہوئے۔ اس واقعے کی اطلاع کمپنی نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو دی۔
بڑی ٹیکسٹائل ملز میں شامل جی اے ٹی ایم نے کہا ہے کہ نقصان کی نوعیت اور اس کے ممکنہ آپریشنل اثرات کا جائزہ لینے کے لیے جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ متاثرہ اسٹاک مکمل طور پر جامع انشورنس پالیسیوں کے تحت کور تھے۔
کمپنی نے مزید کہا کہ وہ انشورنس فراہم کنندگان، حفاظتی حکام اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہی ہے ،تاکہ صورتحال کو مؤثر طریقے سے سنبھالا جا سکے اور کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے۔ مزید معلومات جانچ مکمل ہونے کے بعد فراہم کی جائیں گی۔
ستمبر میں ملز نے اپنے برآمدی ملبوسات کے شعبے کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کی وجہ مسلسل آپریشنل نقصانات، بڑھتی ہوئی لاگتیں، پالیسی تبدیلیاں اور علاقائی مقابلہ جات بتائی گئی تھیں۔
کمپنی نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف برآمدی ملبوسات کے شعبے سے متعلق ہے اور وہ دیگر اہم شعبوں جیسے ہوم ٹیکسٹائل، سپننگ اور ویونگ میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔
گل احمد گروپ 1900 کی دہائی سے بطور ٹیکسٹائل ٹریڈر کام کر رہا ہے، تاہم گروپ نے 1953 میں گل احمد ٹیکسٹائل ملز (جی اے ٹی ایم ) کے طور پر مینوفیکچرنگ شروع کی اور 1955 میں اسے پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا۔
جی اے ٹی ایم ایک جامع ٹیکسٹائل مل ہے جو ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداوار اور فروخت میں مشغول ہے۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں مضبوط موجودگی کے علاوہ کمپنی کی ریٹیل بزنس میں بھی خاص پہچان ہے۔
ریٹیل کاروبار کراچی سے شروع ہوا اور ملک بھر میں 40 سے زائد اسٹورز تک پھیل گیا، جہاں فیشن اور ملبوسات کے ساتھ ساتھ ہوم ایکسیسریز کی مصنوعات بھی دستیاب ہیں۔






















Comments
Comments are closed.