BR100 Increased By (0.05%)
BR30 Decreased By (-0.02%)
KSE100 Increased By (0.24%)
KSE30 Increased By (0.29%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت میں پاور ڈویژن اور کے۔الیکٹرک کے درمیان نئے ٹیرف ڈٹرمنیشن پر تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔

پیر کے روز جاری ایک سرکاری بیان میں پاور ڈویژن نے کہا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے۔الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) پر حالیہ نظرِثانی میں فیصلہ جاری کیا ہے، لیکن بعض عناصر اسے مسخ شدہ اور گمراہ کن انداز میں پیش کر رہے ہیں، جس سے یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ فیصلہ کراچی کے صارفین کے مفاد کے خلاف ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان نے وضاحت کی کہ کے۔الیکٹرک ایک نجی شعبے کی یوٹیلیٹی کمپنی ہے جس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سرکاری تقسیم کار کمپنیوں سے بہتر کارکردگی دکھائے گی، لیکن آئیسکو، فیسکو اور گیپکو جیسی سرکاری کمپنیوں کے مقابلے میں کے۔الیکٹرک کارکردگی، واجبات کی وصولی، لائن لاسز میں کمی اور سروس کے معیار کے لحاظ سے پیچھے ہے۔

بیان کے مطابق، نیپرا کی نظرِثانی بنیادی طور پر کے۔الیکٹرک کی انتظامی اور عملی کارکردگی سے متعلق ہے۔ کمپنی اس وقت تقریباً 2000 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ سے حاصل کر رہی ہے، جو اس کی اپنی پیدا کردہ بجلی کے مقابلے میں سستی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کراچی کے صارفین پہلے ہی ملک کے دیگر حصوں کی طرح فی یونٹ یکساں ٹیرف ادا کر رہے ہیں، اور اگر کے۔الیکٹرک اپنے اخراجات میں کمی لاتی ہے تو یہ صارفین کے مفاد میں ہے کیونکہ اس سے یکساں قومی ٹیرف برقرار رہ سکتا ہے۔

پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ کے۔الیکٹرک کے صارفین بھی دیگر صارفین کی طرح حکومتی سبسڈی سے مستفید رہیں گے، لیکن اب یہ سبسڈی کمپنی کی نااہلی یا نقصانات میں کمی نہ کرنے کی وجہ سے منافع میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔ ترجمان نے کہا کہ عوامی سبسڈی کو نجی منافع میں بدلنے سے روکنا قومی ذمہ داری ہے۔

بیان کے مطابق، ماضی میں کے۔الیکٹرک اپنے ناقابلِ وصول واجبات عوام پر منتقل کر دیتی تھی، مگر نئے فریم ورک کے تحت صرف وہی واجبات شامل کیے جائیں گے جو تمام کوششوں کے باوجود واقعی ناقابلِ وصول ثابت ہوں۔ اس کے علاوہ نیپرا نے کے۔الیکٹرک کے منافع کی حد کو بھی مناسب سطح پر لانے کے اقدامات کیے ہیں۔ پہلے کمپنی کو 24 سے 30 فیصد منافع ڈالر انڈیکسیشن کے ساتھ دیا جاتا تھا، تاہم اب یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے کیونکہ کمپنی کے اثاثے پاکستان میں اور روپے کی بنیاد پر ہیں۔

ترجمان کے مطابق، کے۔الیکٹرک کے اپنے بورڈ کے مقرر کردہ ایک آزاد مشیر نے نشاندہی کی تھی کہ کمپنی نے بھاری اخراجات کے باوجود لائن لاسز میں خاطر خواہ کمی نہیں کی۔ ان حقائق کی روشنی میں نیپرا نے تسلیم شدہ نقصانات کی شرح کم کی ہے، جو عوامی مفاد میں اقدام ہے۔

پاور ڈویژن نے اسے پاکستان کے ریگولیٹری نظام کے لیے ایک اہم فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صارفین کے تحفظ میں بہتری، مالی دباؤ میں کمی اور شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ وزارت کے مطابق، نئے ٹیرف فریم ورک سے کے۔الیکٹرک اور دیگر سرکاری ڈسکوز کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا اور کراچی میں بجلی کی فراہمی کے تسلسل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ نیشنل گرڈ سے سستی بجلی دستیاب ہے اور ٹرانسمیشن نیٹ ورک پہلے سے موجود ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.