منی بجٹ کا امکان مسترد، حکومت کا کوئی اضافی ٹیکس نہ لگانے کا اعلان
- فی الحال کسی اضافی ٹیکس یا ریونیو اقدامات پر غور نہیں کیا جا رہا، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز کسی منی بجٹ کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال کسی اضافی ٹیکس یا ریونیو اقدامات پر غور نہیں کیا جا رہا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا یہ وعدہ ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 11 فیصد تک پہنچائیں گے اور ہم اس پر عمل کریں گے۔
ریونیو میں پہلی سہ ماہی کی کمی کے بعد ممکنہ اضافی اقدامات کے سوال پر وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی بات زیر غور نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری نظرثانی مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، آئی ایم ایف مشن 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت دوسرے ریویو کی تکمیل کے لیے بات چیت کر رہا ہے، جس کے بعد ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت پہلا ریویو ہوگا۔
اس سے قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں، جس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی، وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف ریویو مذاکرات درست سمت میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی میکرو اکنامک استحکام کی بدولت 30 ستمبر 2025 کو یوروبانڈ کی میچورٹی پر 500 ملین ڈالر کی ادائیگی ممکن ہوئی۔ اب یہ ادائیگی ایک نان ایونٹ بن گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپریل 2026 میں یوروبانڈ کی میچورٹی پر 1.3 ارب ڈالر بھی واپس کیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نومبر 2025 میں پانڈا بانڈ لانچ کرے گا، جس کے ذریعے ابتدائی طور پر 250 ملین ڈالر حاصل کیے جائیں گے۔ پانڈا بانڈ کا کل حجم 1 ارب ڈالر تک رکھا گیا ہے اور اس کا اجرا مرحلہ وار کیا جائے گا۔ ان کے بقول یہ چینی مارکیٹ میں داخلے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جو کئی سال پہلے کر لینی چاہیے تھی۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کا سالانہ وفاقی بجٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) تیار نہیں کرے گا۔ وزارت خزانہ میں ٹیکس پالیسی یونٹ قائم( ٹی پی یو) کیا گیا ہے اور ایک ایڈوائزری بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس میں سرکاری اور نجی شعبے کے ماہرین شامل ہوں گے تاکہ سفارشات پیش کی جا سکیں۔ ان کے مطابق، آئندہ بجٹ کی تیاری وزارت خزانہ کے تحت ٹی پی یو کرے گا، جب کہ ایف بی آر صرف ریونیو اکٹھا کرنے پر توجہ دے گا۔
وزیر خزانہ نے سینیٹ کمیٹی کی اس تجویز کی سختی سے مخالفت کی کہ ریگولیٹری باڈیز کے بورڈز میں اراکینِ پارلیمنٹ کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال موجود نہیں، اس لیے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
اجلاس میں سینیٹر افنان اللہ کو بھیجے گئے ٹیکس نوٹس کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر ایف بی آر کے رکن حمید عتیق سرور نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، لہٰذا اس فورم پر ذاتی تفصیلات بتانا مناسب نہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.