بھارت کی انفارمیشن ٹیکنالوجی انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم نَسکام نے پیر کو کہا کہ امریکہ کی جانب سے یہ وضاحت کہ ایچ- ون بی ویزا درخواستوں پر عائد کی گئی زیادہ فیس صرف نئی درخواستوں پر لاگو ہوگی، غیر یقینی صورتحال کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔
نَسکام کے مطابق امریکہ میں کام کرنے والی بھارتی اور بھارت سے جڑی کمپنیوں نے ایچ ون بی ویزوں پر انحصار میں نمایاں کمی کی ہے اور اس اقدام کا شعبے پر محض معمولی اثر پڑے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار سے نئی ایچ- ون بی ویزا درخواستوں پر 100,000 ڈالر فیس عائد کی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی ہے کہ یہ حکم صرف نئی درخواستوں پر لاگو ہوگا، موجودہ ویزا ہولڈرز یا تجدید کے خواہش مند افراد پر نہیں، جس سے یہ ابہام دور ہو گیا کہ کن لوگوں پر اثر پڑے گا۔
مزید کہا گیا کہ یہ فیس ایک بار کے لیے ہوگی، سالانہ نہیں، جس سے کاروباری تسلسل کے حوالے سے خدشات کم ہوئے ہیں۔
یہ فیس ایچ- ون بی درخواستوں کے اگلے سائیکل یعنی 2026 سے لاگو ہوگی، جس سے کمپنیوں کو امریکہ میں مزید مقامی افرادی قوت تیار کرنے اور بھرتی کرنے کا وقت ملے گا۔
بھارت کے 283 ارب ڈالر مالیت کے آئی ٹی شعبے کی تقریباً 57 فیصد آمدن امریکہ سے آتی ہے، اور کمپنیاں وہاں کلائنٹس کے پراجیکٹس پر کارکن بھیجتی ہیں۔ تاہم ماہرین اور وکلاء کے مطابق نئی ویزا درخواستوں پر ایک بار کی 100,000 ڈالر فیس بھی بہت بھاری ہے۔
نَسکام نے کہا کہ ایچ- ون بی ورکرز کی تعداد امریکہ کی مجموعی ورک فورس میں صرف اعشاریہ کے برابر ہے اور آئی ٹی کمپنیاں مسلسل ان پر انحصار کم کر رہی ہیں۔
نَسکام نے بتایا کہ یہ صنعت امریکہ میں مقامی افراد کی مہارت بڑھانے اور بھرتیوں پر 1 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر رہی ہے اور مقامی بھرتیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔






















Comments
Comments are closed.