امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی میں قومی ایمرجنسی نافذ کرنے اور وفاقی اختیارات سنبھالنے کا ارادہ رکھتے ہیں، کیونکہ شہر کی میئر میوریل باؤزر نے کہا تھا کہ ان کی پولیس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی۔ تنازع کی بنیاد غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم یا داخل ہونے والے افراد کی معلومات کی فراہمی ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کو ناقدین نے وفاقی اداروں کے حد سے بڑھنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ماہ ہزاروں افراد نے واشنگٹن کی سڑکوں پر مظاہرے کیے۔ مظاہرین ٹرمپ کی جانب سے اگست میں نیشنل گارڈ کے دستوں کی تعیناتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ صدر نے اس اقدام کو دارالحکومت میں قانون، نظم اور عوامی تحفظ کی بحالی کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ محض چند ہفتوں میں شہر نے دہائیوں بعد تیزی سے ترقی کی ہے اور وہاں تقریباً کوئی جرم باقی نہیں رہا۔ انہوں نے اس صورتحال کا الزام ریڈیکل لیفٹ ڈیموکریٹس پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہی باؤزر پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وفاقی حکومت کو عدم تعاون سے آگاہ کرے۔
خیال رہے کہ نیشنل گارڈ عام طور پر امریکی ریاستوں کے گورنرز کے ماتحت رہتی ہے، لیکن وفاقی سروس میں بلائے جانے پر صدر کے احکامات پر عمل کرتی ہے۔ تاہم واشنگٹن ڈی سی کی نیشنل گارڈ براہ راست صدر کو جوابدہ ہے۔






















Comments
Comments are closed.