BR100 Increased By (1.02%)
BR30 Increased By (1.71%)
KSE100 Increased By (0.58%)
KSE30 Increased By (0.65%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.21 (0.36%)
BIPL 25.45 Increased By ▲ 0.25 (0.99%)
BOP 34.23 Increased By ▲ 0.24 (0.71%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 197.81 Increased By ▲ 4.84 (2.51%)
FABL 89.78 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 53.80 Increased By ▲ 0.97 (1.84%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.95 Increased By ▲ 0.98 (5.17%)
HBL 286.00 Increased By ▲ 0.50 (0.18%)
HUBC 215.78 Increased By ▲ 1.40 (0.65%)
HUMNL 11.00 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
KEL 8.07 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 27.59 Decreased By ▼ -0.30 (-1.08%)
MLCF 87.90 Increased By ▲ 1.39 (1.61%)
OGDC 324.25 Increased By ▲ 4.29 (1.34%)
PAEL 39.95 Increased By ▲ 0.53 (1.34%)
PIBTL 17.32 Increased By ▲ 0.65 (3.9%)
PIOC 273.90 Increased By ▲ 7.84 (2.95%)
PPL 233.49 Increased By ▲ 5.31 (2.33%)
PRL 34.98 Increased By ▲ 0.30 (0.87%)
SNGP 99.70 Increased By ▲ 0.52 (0.52%)
SSGC 27.20 Increased By ▲ 0.60 (2.26%)
TELE 8.57 Increased By ▲ 0.29 (3.5%)
TPLP 8.78 Increased By ▲ 0.56 (6.81%)
TRG 71.50 Increased By ▲ 1.79 (2.57%)
UNITY 11.66 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
دنیا

امریکہ نے بھارت اور روس جیسے اہم شراکت داروں کو کھو دیا؛ ٹرمپ کا شکوہ آمیز اظہارِ افسوس

  • امریکی صدر کے بھارت سے تعلقات تجارتی کشیدگی اور دیگر تنازعات کے باعث سرد مہری کا شکار
شائع September 5, 2025 اپ ڈیٹ September 5, 2025 07:03pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ بھارت اور روس شاید چین کے کیمپ میں جا چکے ہیں، کیونکہ ان کے رہنماؤں نے اس ہفتے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی ہے، جو نئی دہلی اور ماسکو سے ان کے تعلقات کے اختلاف کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ بیجنگ ایک نئے عالمی نظام کو فروغ دے رہا ہے۔

ٹرمپ نے ایک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شی جن پنگ کے سربراہی اجلاس میں تینوں رہنماؤں کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے، ”لگتا ہے ہم نے بھارت اور روس کو گہرے، تاریک چین کے حوالے کر دیا ہے۔ دعا ہے کہ ان کا مستقبل خوشحال اور طویل ہو!“

ٹرمپ کے اس بیان پر پوچھے جانے پر بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نئی دہلی میں صحافیوں کے سوالوں کے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فوری طور پر اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔

بیجنگ اور ماسکو کے نمائندوں کی جانب سے بھی فوری طور پر ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ پر کوئی تبصرہ موصول نہیں ہو سکا ہے۔

چینی شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے شی جن پنگ نے غیر مغربی ممالک کے 20 سے زائد رہنماؤں کو مدعو کیا تھا، جن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل تھے۔

اجلاس کے دوران پوتن اور مودی کو ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے دیکھا گیا جب وہ شی جن پنگ کی جانب بڑھ رہے تھے، اور بعد میں تینوں رہنما ایک صف میں کھڑے ہوئے۔

مودی کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ نے تجارتی کشیدگی اور دیگر تنازعات کے باعث امریکا بھارت تعلقات کو سرد مہری کا شکار کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس ہفتے کہا تھا کہ وہ پوتن سے ”بہت مایوس“ ہیں مگر روس چین تعلقات کے فروغ کو لے کر پریشان نہیں۔

اس ہفتے چین میں دو بڑے واقعات پیش آئے، جن میں صدر شی جن پنگ کے نئے عالمی نظام کا کامیاب مظاہرہ شامل ہے، جو اپنے ملک کو مرکز میں رکھتے ہوئے امریکہ کو کنارے لگا دیتا ہے۔

ہفتے سے اب تک، شی جن پنگ نے تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک بڑے فوجی پریڈ کے دوران تقریباً 30 عالمی رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔

مغربی بڑی طاقتوں نے ایس سی او اجلاس یا پریڈ میں حصہ نہیں لیا، اور یورپی یونین کے صرف ایک رکن ملک کے سربراہ، سلوواکیہ کے رابرٹ فیکو، ہی موجود تھے۔

Comments

Comments are closed.