BR100 Decreased By (-1%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.95%)
KSE30 Decreased By (-1.02%)
BAFL 55.51 Increased By ▲ 0.30 (0.54%)
BIPL 23.97 Decreased By ▼ -0.20 (-0.83%)
BOP 27.30 Decreased By ▼ -0.62 (-2.22%)
CNERGY 12.40 Increased By ▲ 0.05 (0.4%)
DFML 15.79 Decreased By ▼ -0.39 (-2.41%)
DGKC 175.58 Decreased By ▼ -2.63 (-1.48%)
FABL 90.01 Decreased By ▼ -0.40 (-0.44%)
FCCL 49.65 Decreased By ▼ -0.37 (-0.74%)
FFL 13.36 Decreased By ▼ -0.27 (-1.98%)
GGL 18.69 Decreased By ▼ -0.26 (-1.37%)
HBL 283.26 Decreased By ▼ -2.49 (-0.87%)
HUBC 187.86 Decreased By ▼ -2.78 (-1.46%)
HUMNL 8.05 Decreased By ▼ -0.24 (-2.9%)
KEL 5.55 Decreased By ▼ -0.08 (-1.42%)
LOTCHEM 23.04 Decreased By ▼ -0.89 (-3.72%)
MLCF 86.63 Decreased By ▼ -0.91 (-1.04%)
OGDC 298.12 Decreased By ▼ -2.38 (-0.79%)
PAEL 32.05 Decreased By ▼ -0.72 (-2.2%)
PIBTL 12.55 Decreased By ▼ -0.31 (-2.41%)
PIOC 224.17 Decreased By ▼ -3.51 (-1.54%)
PPL 210.17 Decreased By ▼ -4.03 (-1.88%)
PRL 94.52 Decreased By ▼ -0.60 (-0.63%)
SNGP 90.13 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
SSGC 22.52 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 6.66 Decreased By ▼ -0.08 (-1.19%)
TPLP 11.51 Increased By ▲ 0.23 (2.04%)
TRG 52.54 Decreased By ▼ -2.19 (-4%)
UNITY 7.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.91%)
WTL 0.89 Decreased By ▼ -0.01 (-1.11%)

خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیونکہ روس اور یوکرین تنازع میں شدت کے سبب سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

برنٹ کروڈ کی قیمت 40 سینٹ یا 0.59 فیصد اضافے کے بعد 68.55 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ 1.05 ڈالر یا 1.64 فیصد اضافے سے 65.06 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کیا گیا۔

امریکی لیبر ڈے کی تعطیل کی وجہ سے پیر کو ڈبلیو ٹی آئی فیوچرز کا سیشن بند رہا۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ یوکرینی ڈرون حملوں کے نتیجے میں روس کی تیل کی پروسیسنگ کی صلاحیت کم از کم 17 فیصد، یعنی یومیہ 1.1 ملین بیرل، بند ہوگئی ہے۔

اتوار کو یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا کہ یوکرین روس کے اندر مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

تین سال اور چھ ماہ کے جنگی دورانیے میں حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک نے فضائی حملوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ روس نے یوکرین کے توانائی اور نقل و حمل کے نظام کو نشانہ بنایا، جبکہ یوکرین نے روس کی تیل کی ریفائنریز اور پائپ لائنوں پر حملے کیے ہیں۔

این زیڈ کے سینئر کموڈیٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنز نے کہا کہ روس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرات بلند ہیں اور یوکرین نے ہفتے کے آخر میں مزید روسی ریفائنریز پر حملے کیے ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کو عالمی سلامتی اور اقتصادی نظام میں تبدیلی کے اپنے وژن کا اظہار کیا، جس میں “گلوبل ساؤتھ” کو ترجیح دی گئی اور یہ امریکی موقف کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔ اجلاس میں روس اور بھارت کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

چین اور بھارت روس سے خام تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں، جبکہ ٹرمپ نے بھارت پر اضافی محصولات عائد کیے ہیں لیکن چین پر نہیں۔

سرمایہ کار اب 7 ستمبر کو اوپیک اور اس کے اتحادیوں کے اجلاس کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ پیداوار میں اضافے کے اشارے مل سکیں۔

Comments

Comments are closed.