خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیونکہ روس اور یوکرین تنازع میں شدت کے سبب سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
برنٹ کروڈ کی قیمت 40 سینٹ یا 0.59 فیصد اضافے کے بعد 68.55 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ 1.05 ڈالر یا 1.64 فیصد اضافے سے 65.06 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کیا گیا۔
امریکی لیبر ڈے کی تعطیل کی وجہ سے پیر کو ڈبلیو ٹی آئی فیوچرز کا سیشن بند رہا۔
رائٹرز کے مطابق حالیہ یوکرینی ڈرون حملوں کے نتیجے میں روس کی تیل کی پروسیسنگ کی صلاحیت کم از کم 17 فیصد، یعنی یومیہ 1.1 ملین بیرل، بند ہوگئی ہے۔
اتوار کو یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا کہ یوکرین روس کے اندر مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
تین سال اور چھ ماہ کے جنگی دورانیے میں حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک نے فضائی حملوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ روس نے یوکرین کے توانائی اور نقل و حمل کے نظام کو نشانہ بنایا، جبکہ یوکرین نے روس کی تیل کی ریفائنریز اور پائپ لائنوں پر حملے کیے ہیں۔
این زیڈ کے سینئر کموڈیٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنز نے کہا کہ روس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرات بلند ہیں اور یوکرین نے ہفتے کے آخر میں مزید روسی ریفائنریز پر حملے کیے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کو عالمی سلامتی اور اقتصادی نظام میں تبدیلی کے اپنے وژن کا اظہار کیا، جس میں “گلوبل ساؤتھ” کو ترجیح دی گئی اور یہ امریکی موقف کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔ اجلاس میں روس اور بھارت کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
چین اور بھارت روس سے خام تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں، جبکہ ٹرمپ نے بھارت پر اضافی محصولات عائد کیے ہیں لیکن چین پر نہیں۔
سرمایہ کار اب 7 ستمبر کو اوپیک اور اس کے اتحادیوں کے اجلاس کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ پیداوار میں اضافے کے اشارے مل سکیں۔


Comments
Comments are closed.