تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز معمولی ردوبدل دیکھنے کو ملا، اس سے پہلے کے سیشن میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ مارکیٹ امریکی حکومت کی جانب سے بھارت پر روسی تیل کی خریداری کے جواب میں بھاری نئے ٹیرف کے نفاذ کی منتظر ہے۔ بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل صارف ہے۔
امریکہ بدھ کی صبح 12:01 بجے (ای ڈی ٹی) سے بھارتی برآمدات پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے جا رہا ہے، جس کے بعد مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ جائے گا جو واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ بلند ترین سطحوں میں شمار ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ اقدامات بھارت کی روسی تیل خریداری کا نتیجہ ہیں، جو یوکرین پر روسی حملے کے بعد مغربی پابندیوں کے باعث رعایتی نرخوں پر بڑھ گئی تھی۔
بدھ کی صبح برینٹ کروڈ فیوچرز 2 سینٹ کے اضافے کے ساتھ 67.24 ڈالر فی بیرل پر جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 63.25 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہی۔ دونوں کنٹریکٹس میں منگل کے روز 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
اے این زیڈ کے کموڈٹی اسٹریٹیجسٹ ڈینیئل ہائنس کے مطابق، سرمایہ کار ابھی بھی محتاط ہیں کیونکہ بھارت پر روسی تیل کی خریداری کے باعث امریکی اضافی ٹیرف مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی سرکاری ریفائنریز، انڈین آئل اور بھارت پٹرولیم نے ستمبر اور اکتوبر کے لیے روسی خام تیل کی خریداری دوبارہ شروع کر دی ہے۔ انڈین آئل، جو ملک کی سب سے بڑی ریفائنری ہے، نے کہا ہے کہ وہ معاشی حساب کتاب کے مطابق روسی تیل خریدنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ امریکی بلند ٹیرف بھارتی خریداری پر کتنا اثر ڈالیں گے کیونکہ مزید ٹیرف بھی بھارت کو روسی تیل لینے سے روک نہیں سکے۔
ادھر یوکرین جنگ کے اثرات بھی مارکیٹ پر نمایاں ہیں، کیونکہ یوکرینی ڈرون حملوں سے روسی ریفائنریز کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث روس کو زیادہ خام تیل برآمد کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق روس نے اگست میں مغربی بندرگاہوں سے برآمدات کے منصوبے میں یومیہ 200,000 بیرل کا اضافہ کیا ہے۔





















Comments
Comments are closed.