تیل کی عالمی منڈی میں جمعرات کو معمولی سا اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکا میں خام تیل اور فیول کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 13 سینٹ یا 0.19 فیصد اضافے کے بعد 66.97 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 15 سینٹ یا 0.24 فیصد بڑھ کر 62.86 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ ایک روز قبل برینٹ میں 1.6 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 1.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا کے خام تیل کے ذخائر 6 ملین بیرل کم ہو کر 420.7 ملین بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ ماہرین نے صرف 1.8 ملین بیرل کمی کی پیش گوئی کی تھی۔ پٹرول کے ذخائر میں بھی 2.7 ملین بیرل کی نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی جو ماہرین کی متوقع 915,000 بیرل کمی سے کہیں زیادہ ہے۔ اس رجحان نے گرمیوں کے سفر کے سیزن میں مضبوط ڈرائیونگ ڈیمانڈ کی نشاندہی کی ہے۔
جیٹ فیول کی کھپت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا چار ہفتوں کا اوسط 2019 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اے این زیڈ کے سینئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنس کے مطابق امریکا میں طلب کے مضبوط اشاروں نے مارکیٹ کا اعتماد بحال کیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال بدستور منڈی پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
روس نے ایک روز قبل کہا کہ یوکرین کے حوالے سے ماسکو کے بغیر سیکیورٹی مذاکرات بے سود کوشش ہیں۔ اسی دوران امریکا اور یورپ نے روسی تیل پر پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ مزید برآں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی روسی خام تیل خریداری پر 27 اگست سے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یورپی یونین نے بھارتی پرائیویٹ ریفائنری نایارا انرجی پر بھی پابندیاں لگا دی ہیں، جو روسی کمپنی روزنیفٹ کی پارٹنر ہے۔ ابتدائی طور پر بھارتی ریفائنرز نے روسی خریداری روک دی تھی، لیکن انڈین آئل اور بھارت پیٹرولیم نے ستمبر اور اکتوبر کے لیے رعایتی نرخوں پر روسی تیل دوبارہ خریدنے کے معاہدے کر لیے ہیں۔





















Comments
Comments are closed.