یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بدھ کے روز کہا کہ اگر روس اس ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سربراہی اجلاس میں فوری جنگ بندی پر راضی نہیں ہوتا تو اس پر نئی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔
زیلنسکی نے ٹرمپ اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے بعد کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اجلاس کا مرکزی موضوع جنگ بندی ہوگا۔ فوری جنگ بندی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پابندیاں نافذ رہنی چاہئیں اور انہیں مزید سخت کیا جانا چاہیے اگر روس جنگ بندی پر راضی نہیں ہوتا۔ زیلنسکی یہ بات جرمن چانسلر فریڈرش مرز کے ساتھ برلن میں گفتگو کے دوران کر رہے تھے۔
ٹرمپ جمعہ کو الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ زیلنسکی کو بھی شامل کرتے ہوئے ایک سہ فریقی ملاقات کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں۔
یوکرین نے مارچ میں امریکہ کی جانب سے دی گئی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ روس کے ساتھ کسی بھی بامعنی امن مذاکرات سے قبل جنگ بندی ضروری ہے۔
روس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور زیلنسکی کی براہِ راست پیوٹن سے بات چیت کی اپیل پر بھی پیش رفت نہیں کی۔
زیلنسکی نے کہا کہ میں نے اپنے امریکی اور یورپی ساتھیوں کو بتایا ہے کہ پیوٹن ہرگز امن نہیں چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس اجلاس سے قبل یوکرین کے محاذوں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔






















Comments
Comments are closed.