ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حق کی حمایت کرتے ہیں، وزیراعظم کی ایرانی صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس
- ایرانی صدر کی آمد پر پاک فوج کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز ایران کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حصول کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا۔
وزیرِاعظم نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ”پاکستان ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حصول کے حق کے ساتھ کھڑا ہے۔“
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر دوبارہ توجہ مرکوز ہو چکی ہے، جو حالیہ دنوں میں اسرائیل کے ساتھ اس کے تنازعے کا ایک مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں امریکا نے ایران میں متعدد جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اس تناظر میں ایران اور یورپی ممالک — فرانس، جرمنی اور برطانیہ — کے درمیان جوہری مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق، یہ مذاکرات ’’دو ٹوک‘‘ رہے ہیں اور ممکنہ طور پر ایرانی جوہری تنصیبات کے نئے معائنے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر اور ان کے اعلیٰ سطح وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور حالیہ تنازعات میں ایرانی قیادت کے دانشمندانہ اور بہادرانہ ردِعمل کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ”پاکستان کے 24 کروڑ عوام ایران پر حالیہ اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔“ انہوں نے ایرانی عوام اور افواج کی جرأت کو سراہتے ہوئے شہداء کے لیے دعا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کا اظہار کیا اور ایرانی ردِعمل کو دانشمندانہ قیادت میں حاصل ہونے والی شاندار کامیابی قرار دیا۔
ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کے باوجود، پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ جوہری توانائی کا پرامن استعمال بین الاقوامی قوانین کے تحت جائز ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ دونوں ممالک نے اس دورے کے دوران کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں جنہیں جلد باضابطہ معاہدوں کی شکل دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ”ہمارا ہدف دو طرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانا ہے، اور ہم جلد اسے حاصل کریں گے۔“ وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران انسدادِ دہشت گردی، علاقائی امن اور ترقی کے لیے یکساں وژن رکھتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے سرحدی سلامتی کے اقدامات مضبوط بنانے اور مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ صدرمسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اسلام آباد کے ساتھ مل کر مشترکہ اقتصادی زونز قائم کرنے اور سرحدی تجارت کو فروغ دینے کے منصوبوں پر سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات صرف جغرافیہ یا معیشت تک محدود نہیں بلکہ ان کی بنیاد مشترکہ ثقافت، عقیدے اور نظریے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”علامہ اقبال کی شاعری صرف پاکستان کا سرمایہ نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہے۔“ صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی علاقائی پالیسی کی بنیاد مسلم اتحاد کے پیغام پر ہے اور پاکستان کے ساتھ تعاون اس پالیسی کا مرکزی ستون ہے۔
انہوں نے پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت سے ملاقاتوں کو اطمینان بخش قرار دیا اور کہا کہ ان کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی میں اضافہ ہوا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غزہ میں ہر گھنٹے معصوم عورتیں اور بچے شہید ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ خوراک کو بھی فلسطینی عوام کے خلاف ہتھیار بنا دیا گیا ہے۔ دنیا کو آواز اٹھانی چاہیے اور فوری جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھی جوڑا اور کہا کہ“کشمیر معصوموں کے خون سے تر ہے۔“ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان دونوں تنازعات کو انصاف اور انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھے۔
صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا کہ غزہ، لبنان اور شام میں اسرائیلی جارحیت پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ، بالخصوص سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات کا مؤثر اور فوری نوٹس لے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دنیا امن چاہتی ہے تو مسلم ممالک کو ایک متفقہ موقف اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ترقی اور سلامتی ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔
دریں اثنا صدر مسعود پزشکیان نے تمام مفاہمتی یادداشتوں پر فوری عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلوں کا وقت ہے، تاخیر مسائل کو مزید بڑھائے گی۔
دونوں فریقین نے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سلامتی کے شعبوں میں ہر سطح پر باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور مسلم دنیا میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
قبل ازیں، وزیراعظم شہباز شریف نے ایوانِ وزیرِاعظم میں صدر ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا استقبال کیا۔
استقبالیہ تقریب میں پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ ایرانی صدر کا تعارف وفاقی کابینہ کے ارکان سے کروایا گیا، جبکہ وزیراعظم نے ایرانی وفد سے مختصر ملاقات بھی کی۔
صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم ہاؤس کے لان میں ایک پودا بھی لگایا۔
اس سے قبل ایرانی صدر نے نائب وزیراعظم و وزیرِخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے ایران سے پاکستان کے تاریخی، برادرانہ تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا اور ان تعلقات کی بنیاد مشترکہ تاریخ، ثقافتی ورثہ، ایمان اور باہمی احترام کو قرار دیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایران کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستانی قیادت سے بامقصد بات چیت کی خواہش ظاہر کی تاکہ سیاسی و اقتصادی تعلقات کو مزید تقویت دی جا سکے۔
اسلام آباد میں اتوار کو دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں 12 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
ان میں پودوں کے تحفظ، سرحدی دروازے میر جاوہ–تفتان کے مشترکہ استعمال، سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون، آئی سی ٹی، ثقافت، فن، سیاحت، نوجوانوں، ذرائع ابلاغ اور برآمدات، موسمیات، ماحولیاتی خطرات، سمندری سلامتی و آگ بجھانے، مجرمانہ معاملات میں عدالتی معاونت، فضائی سروس معاہدے سے متعلق ضمنی یادداشت، مصنوعات کی سرٹیفکیشن، معائنہ و جانچ کی شناخت، سیاحت میں 27-2025 کے لیے تعاون، اور آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی نیت پر مشترکہ وزارتی بیان شامل ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس میں ایرانی صدر کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات اور سفارتکار شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی صدر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے بھی علیحدہ ملاقاتیں کریں گے، جن میں پارلیمانی سطح پر تعاون کے فروغ پر بات چیت ہو گی۔
رات گئے ایرانی صدر صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو کی جائے گی۔ صدر زرداری ایرانی ہم منصب کے اعزاز میں ایک ضیافت بھی دیں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی صدر کا یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی و سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔






















Comments
Comments are closed.