وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہفتہ کے روز بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو باضابطہ بینکاری ذرائع سے رقوم بھیجنے کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت کی سہولت اسکیم کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ منصوبہ، جس کا عنوان ”ورکرز ریمیٹنسز انسینٹو اسکیم“ ہے، ملکی معیشت کو سہارا دینے، زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور بیرونی کھاتوں کے توازن کو برقرار رکھنے کا مقصد رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی کہ اسکیم کو جاری رکھنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر فوری فنڈز جاری کیے جائیں۔
یہ اقدام اس پس منظر میں کیا گیا ہے جب مالی سال 2025 کے دوران ترسیلاتِ زر کی ریکارڈ بلند سطح 38.3 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ 14 برسوں میں پہلی بار ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس میں لانے کا اہم سبب بنی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہماری طاقت اور قیمتی قومی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محنت سے کمائی گئی ترسیلاتِ زر، جو بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی وطن بھیجتے ہیں، انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور قومی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یہ رقوم نہ صرف ملک کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو سنبھالنے میں معاون ثابت ہوئی ہیں بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی مضبوط کیا ہے۔ ان کے مطابق، محنت کشوں سے لے کر بیرونِ ملک کاروباری افراد تک، سب نے ترسیلاتِ زر کے ذریعے پاکستان کی معیشت کی معاونت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترسیلاتِ زر کے عمل میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی اور نظام کو مزید مؤثر اور قابلِ رسائی بنایا جائے گا۔ انسینٹو اسکیم کا تسلسل ترسیلاتِ زر کے باضابطہ ذرائع کو فروغ دینے اور قومی معیشت کو مستحکم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.