پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے اتحادیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کا خواہاں ہے، آرمی چیف
- صدر آصف علی زرداری نے امریکی جنرل مائیکل ای کُرِلا کو نشانِ امتیاز سے نوازا
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف آرمی اسٹاف نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ پاکستان اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر خطے کو محفوظ اور خوشحال بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
پاکستان نے اسلام آباد میں ریجنل چیفس آف ڈیفنس اسٹاف کانفرنس کی میزبانی کی، جس میں امریکہ، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کثیرالجہتی مشاورت علاقائی سلامتی، عسکری سفارت کاری اور اسٹریٹجک مکالمے کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی ہے، جو شریک ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی سمت ایک موثر قدم ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دفاعی وفود کا خیرمقدم کیا اور خطے میں امن، استحکام اور تعمیری اشتراکِ عمل کے لیے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ عالمی نوعیت کے خطرات اور پیچیدہ ہائبرڈ چیلنجز کے اس دور میں افواج کے درمیان گہرا تعاون، اسٹریٹجک مکالمہ، اور باہمی اعتماد ازحد ضروری ہے۔ پاکستان خطے کو محفوظ اور خوشحال بنانے کے لیے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
یہ اعلیٰ سطح کی کانفرنس ”رشتوں کو مضبوط بنانا، امن کو یقینی بنانا“ کے عنوان کے تحت منعقد ہوئی، جس کا مقصد دفاعی تعاون کو فروغ دینا، تربیتی اقدامات میں بہتری لانا اور انسدادِ دہشت گردی و دیگر سیکورٹی شعبوں میں بہترین تجربات کا تبادلہ تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں علاقائی سلامتی کی صورتِ حال، وسطی اور جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک تغیرات، اور باہمی تربیتی پروگراموں، انسدادِ دہشت گردی میں اشتراک، اور بحرانوں کے دوران انسانی امداد میں ہم آہنگی جیسے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے امن، باہمی احترام، قومی خودمختاری کے احترام اور دہشت گردی، سائبر خطرات اور پرتشدد انتہاپسندی جیسے مشترکہ چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس میں شریک وفود نے پاکستان کی قیادت، مہمان نوازی اور وسیع النظر دفاعی سفارت کاری کی کاوشوں کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اہم مشاورت نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ پاکستان ایک محفوظ، باہم جُڑا ہوا، اور تعاون پر مبنی خطہ تشکیل دینے کے لیے پُرعزم ہے، جو مشترکہ سیکورٹی مفادات اور علاقائی یکجہتی پر مبنی ہے۔
صدر زرداری نے امریکی جنرل کُرِلا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) سے نوازا
دریں اثناء حکومتِ پاکستان نے امریکی سینٹرل کمانڈ (یوایس سینٹ کام) کے کمانڈر جنرل مائیکل ای کُرِلا کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار عسکری تعاون کے فروغ میں ان کی مثالی خدمات اور کلیدی کردار کے اعتراف میں نشانِ امتیاز (ملٹری) عطا کیا۔ یہ اعلان ایک علیحدہ بیان میں پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کیا گیا ہے۔
یہ اعزاز ایوانِ صدر میں ایک باوقار تقریب کے دوران صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے جنرل کُرِلا کو عطا کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل کُرِلا کی بصیرت افروز قیادت نے باہمی اعتماد، دفاعی اشتراکِ عمل اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی مستقل وابستگی پاکستان کے خطے میں امن و استحکام کے مرکزی کردار کے لیے گہرے احترام کی عکاسی کرتی ہے۔
اپنے دورۂ پاکستان کے دوران جنرل کُرِلا نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں صدرِ پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، افواج کے درمیان روابط اور دہشت گردی و سرحد پار درپیش خطرات کے خلاف مشترکہ کوششوں پر بات چیت کی گئی۔
یہ اعزاز اور ملاقاتیں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرپا اسٹریٹجک شراکت داری اور علاقائی استحکام کے لیے باہمی عزم کا مظہر ہیں۔






















Comments
Comments are closed.