BR100 Decreased By (-0.98%)
BR30 Decreased By (-0.58%)
KSE100 Decreased By (-0.97%)
KSE30 Decreased By (-1.07%)
BAFL 56.80 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
BIPL 26.95 Decreased By ▼ -0.19 (-0.7%)
BOP 33.82 Decreased By ▼ -0.21 (-0.62%)
CNERGY 9.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.1%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.08 (-0.44%)
DGKC 205.01 Decreased By ▼ -1.50 (-0.73%)
FABL 100.44 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
FCCL 53.07 Decreased By ▼ -1.63 (-2.98%)
FFL 16.58 Decreased By ▼ -0.11 (-0.66%)
GGL 25.10 Increased By ▲ 0.31 (1.25%)
HBL 300.50 Decreased By ▼ -1.85 (-0.61%)
HUBC 218.00 Decreased By ▼ -1.38 (-0.63%)
HUMNL 10.65 Increased By ▲ 0.25 (2.4%)
KEL 7.27 Decreased By ▼ -0.13 (-1.76%)
LOTCHEM 29.55 Increased By ▲ 0.23 (0.78%)
MLCF 92.90 Decreased By ▼ -1.46 (-1.55%)
OGDC 318.98 Increased By ▲ 3.14 (0.99%)
PAEL 42.31 Decreased By ▼ -0.89 (-2.06%)
PIBTL 16.39 Decreased By ▼ -0.35 (-2.09%)
PIOC 300.49 Increased By ▲ 3.39 (1.14%)
PPL 218.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.58%)
PRL 51.20 Increased By ▲ 2.01 (4.09%)
SNGP 102.50 Decreased By ▼ -2.40 (-2.29%)
SSGC 26.96 Decreased By ▼ -1.29 (-4.57%)
TELE 8.68 Decreased By ▼ -0.11 (-1.25%)
TPLP 13.44 Increased By ▲ 0.17 (1.28%)
TRG 59.48 Decreased By ▼ -0.66 (-1.1%)
UNITY 10.35 Decreased By ▼ -0.08 (-0.77%)
WTL 1.24 Decreased By ▼ -0.02 (-1.59%)

ورلڈ بینک نے تقریباً 30 کروڑ ڈالر مالیت کے سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (ایس ڈبلیو اے ٹی) منصوبے کی مجموعی عمل درآمد کی پیش رفت کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد منتخب فارمر آرگنائزیشنز کے زیرِانتظام علاقوں میں زرعی پانی کی پیداوار میں اضافہ، مربوط آبی وسائل کے انتظام کو بہتر بنانا، اور 2022 کے سیلاب سے متاثرہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کی فصلوں کی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔

ورلڈ بینک نے اپنے امپلیمینٹیشن اسٹیٹس اینڈ رزلٹس رپورٹ (آئی ایس آر) میں منصوبے کے ترقیاتی اہداف کے حصول میں پیش رفت کو بھی “درمیانے درجے تک تسلی بخش قرار دیا ہے۔

یہ منصوبہ دسمبر 2022 میں منظور ہوا تھا اور اس کا مقصد منتخب علاقوں میں زرعی پانی کی افادیت بڑھانا، مربوط آبی وسائل کا مؤثر انتظام یقینی بنانا، اور سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی زرعی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق، منصوبے کے مختلف شعبوں پر پیش رفت جاری ہے، تاہم کچھ تاخیر کا سامنا بھی ہے۔

آبی وسائل:آبپاشی اور زراعت کے محکموں کے تحت ہائیڈرو ایگرو انفارمیٹکس پروگرام کا ڈیزائن تیار کیا جا رہا ہے، جس کی تکمیل کے بعد اہم سرگرمیوں کا آغاز 2026 میں ہوگا۔

پانی کے وسائل سے متعلق ایک ابتدائی بل تیار کر لیا گیا ہے، جسے محکمہ آبپاشی کا جائزہ لے رہا ہے۔ سندھ کا محکمہ قانون و پارلیمانی امور اس بل کو سندھ اسمبلی میں پیش کرے گا۔ یہ بل 1879 کے آبپاشی ایکٹ اور 2002 کے سندھ واٹر مینجمنٹ آرڈیننس کی جگہ لے کر ایک متحد قانونی فریم ورک فراہم کرے گا تاکہ مربوط آبی وسائل کے انتظام اور آبپاشی کی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

مزید یہ کہ محکمہ آبپاشی پانی کی قیمتوں میں اصلاحات سے متعلق ایک مطالعہ کر رہا ہے، اور اس مطالعے کی سفارشات کی روشنی میں ”آبیانہ“ کی شرح میں اضافہ کرے گا۔ یہ مطالعہ وفاقی سطح پر جاری واٹر پرائسنگ اسٹڈی سے بھی رہنمائی حاصل کرے گا۔

فارمر آرگنائزیشن (ایف اوز) سب پروجیکٹس: محکمہ آبپاشی اور زراعت تین پائلٹ فارمر آرگنائزیشنز کے ساتھ مل کر ایریا ڈیولپمنٹ پلانز تیار کر رہے ہیں جن میں زرعی اور آبپاشی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ترجیحات طے کی جائیں گی۔ اکرم واہ کی بحالی کے منصوبے کی خریداری سے متعلق سرگرمیاں جاری ہیں اور اس کا کنٹریکٹ 2026 کے اوائل میں دیا جائے گا۔

محکمہ زراعت فصلوں کی رپورٹنگ، مٹی میں نمکیات کے انتظام، ویلیو چین کی ترقی سے متعلق سرگرمیوں میں پیش رفت کر چکا ہے۔ گندم کی نگرانی اور زرعی تحقیق سے متعلق پالیسی پر مشاورت جاری ہے۔ سیلاب ایمرجنسی ریسپانس (ایف ای آر سی) ادائیگیاں 2025 کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

منصوبے سے متعلقہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ تین پائلٹ فارمر آرگنائزیشنز کے لیے ایریا ڈیولپمنٹ پلانز کی تیاری جاری ہے۔ ذیلی منصوبوں کے جائزہ رپورٹس یہ جانچیں گی کہ منصوبے کے نتیجے میں زرعی سطحی پانی کی پیداوار (یعنی فصل سے حاصل شدہ آمدنی کو فراہم کردہ پانی کے حجم پر تقسیم کر کے فی مکعب میٹر آمدنی PKR/m³ میں) میں کیا تبدیلی آئی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.