ملک گیر ہڑتال پر پیٹرولیم ڈیلرز تقسیم کا شکار ہوگئے
- پیٹرولیم ریٹیل سیکٹر کے اندر اختلافِ رائے کے باعث ہڑتال کی کامیابی اور اس کے دائرہ کار سے متعلق غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے
پاکستان بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز اور پمپ مالکان ملک گیر ہڑتال کے اعلان پر تقسیم کا شکار ہیں۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے حق میں غیر معینہ مدت کی ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
تاہم پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) کا کہنا ہے کہ اس نے تاحال ہڑتال کا فیصلہ نہیں کیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج (بدھ) کراچی میں ہونے والے مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
پیٹرولیم ریٹیل سیکٹر کے اندر اختلافِ رائے کے باعث ہڑتال کی کامیابی اور اس کے دائرہ کار سے متعلق غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، کیونکہ مختلف دھڑے اس بات پر متفق نہیں کہ زیادہ منافع (مارجن) کے مطالبے کے لیے پیٹرول پمپ بند کرنا مناسب حکمت عملی ہے یا نہیں۔
پی پی ڈی اے کے نائب صدر طارق حسن نے کہا کہ حکومت نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ڈیلرز کے مسائل حل کیے جائیں گے، تاہم اس سلسلے میں ایک ہفتے کی مہلت طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی پی ڈی اے کی مرکزی کمیٹی بدھ کو کراچی میں اجلاس کرے گی اور پیٹرولیم ڈیلرز کے بہترین مفاد میں فیصلہ کیا جائے گا۔
طارق حسن نے کہا کہ پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن نے ہمارے ساتھ مشاورت کیے بغیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ فی الحال ہم ہڑتال نہیں کر رہے، البتہ آج کے اجلاس میں تمام معاملات پر غور کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والا اجلاس انتہائی مثبت رہا اور حکومت اصولی طور پر ان کے مطالبات سے متفق ہے، تاہم وزیراعظم سے منظوری حاصل کرنے کے لیے کچھ مزید وقت مانگا گیا ہے۔
طارق حسن کے مطابق ڈیلرز کے بنیادی مطالبات میں کمیشن (مارجن) میں اضافہ اور سابقہ پالیسی کے مطابق ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر نظرثانی شامل ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments