دوہرے ہندسے کی مہنگائی
- تیل اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کا دوہرا دباؤ برقرار رہا تو پاکستان میں دوہرے ہندسے کی مہنگائی اور عوام کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں
جون 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل اپریل اور مئی 2026 میں بھی مہنگائی بالترتیب 10.9 فیصد اور 11.7 فیصد رہی، یعنی دونوں ماہ میں مہنگائی دوہرے ہندسے میں برقرار رہی۔
درحقیقت، جولائی 2025 سے سی پی آئی میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، جب یہ 4.1 فیصد تھی۔ فروری 2026 تک یہ تقریباً 7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث عالمی سطح پر، اور پاکستان میں بھی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، فروری 2026 میں 7 فیصد رہنے والی مہنگائی جون 2026 تک بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی۔
مالی سال 2025-26 کی آخری سہ ماہی میں مہنگائی میں اس تیز اضافے کے باعث پورے مالی سال کے دوران سی پی آئی کی اوسط شرح 7.1 فیصد رہی، جو 2024-25 میں ریکارڈ کیے گئے 4.5 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
غذائی اشیا اور توانائی کو نکال کر شمار کی جانے والی بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 8.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ٹرمڈ انفلیشن اس سے بھی زیادہ 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اپنی مانیٹری پالیسی میں بنیادی مہنگائی اور پالیسی شرحِ سود کے درمیان تعلق کو مدنظر رکھتا ہے۔ چنانچہ بنیادی مہنگائی میں اضافے کے باعث آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کمی کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مہنگائی میں یہ نمایاں اضافہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہے یا پاکستان کے اندر بھی دیگر عوامل نے دوہرے ہندسے کی مہنگائی میں کردار ادا کیا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے براہِ راست مہنگائی پر وسیع اثرات مرتب کیے، کیونکہ اس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور یوٹیلیٹی بلوں میں عمومی اضافہ ہوا۔ تاہم ایک اہم پہلو جس پر کم توجہ دی گئی، وہ خوراک کی قیمتوں میں غیر متوقع تیزی ہے، جس کی بنیادی وجہ گندم کی قیمت میں تقریباً 65 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔
آخر گندم کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ کیوں ہوا؟ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 میں گندم کے زیرِ کاشت رقبے اور پیداوار میں بالترتیب 4.3 فیصد اور 4.4 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی تھی۔
تاہم امریکی محکمۂ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق پاکستان میں 2025-26 کے دوران گندم کی پیداوار 2024-25 کے 3 کروڑ 18 لاکھ 10 ہزار ٹن سے کم ہو کر 2 کروڑ 84 لاکھ ٹن رہ گئی، جو 10.7 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہی بڑی کمی گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وضاحت کرتی ہے۔ بظاہر اس کی ایک اہم وجہ کسانوں سے گندم کی خریداری کے لیے کم از کم امدادی قیمت کی پالیسی کا خاتمہ بھی ہے۔
سینسیٹو پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مہنگائی کے بوجھ کا ایک اہم اشاریہ ہے۔ اس میں 51 بنیادی اشیا اور خدمات کی قیمتیں شامل کی جاتی ہیں۔
گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث کم آمدنی والے دو طبقوں کے لیے ایس پی آئی کے تحت مہنگائی کی شرح بڑھ کر 13.5 فیصد ہو گئی، جبکہ سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے کے لیے یہ شرح 10.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسبتاً کم معاشی نمو کے باعث بڑھتی بے روزگاری اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے اشیائے ضروریہ کی لاگت میں زیادہ اضافے کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کی اکثریتی آبادی کی معاشی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ پانچ برسوں سے یہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کا تقابل دیگر جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً بھارت اور بنگلہ دیش سے کیا جا سکتا ہے۔ جون 2026 میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باوجود بھارت میں مہنگائی کی شرح صرف 4.4 فیصد رہی، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 9.2 فیصد تھی۔ تاہم یہ دونوں شرحیں پاکستان کی 11.1 فیصد مہنگائی سے نمایاں طور پر کم ہیں۔ اس فرق کی بڑی وجہ پاکستان میں گندم اور دیگر بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ معلوم ہوتی ہے۔
ایک اور مفید تقابل پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں کا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد 2026 کی دوسری سہ ماہی میں بھارت اور بنگلہ دیش میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں کم رہی، جبکہ پیٹرول نسبتاً مہنگا رکھا گیا۔ خام تیل اور پیٹرول کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے مجموعی مہنگائی پر اثرات محدود رکھنے کے لحاظ سے یہ پالیسی زیادہ مؤثر دکھائی دیتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس وقت صنعتی صارفین کے لیے بجلی کا اوسط ٹیرف (امریکی ڈالر فی کلوواٹ گھنٹہ) بھارت میں پاکستان سے 20 فیصد اور بنگلہ دیش میں 34 فیصد کم ہے۔ اس سے پاکستان کی برآمدی مسابقت کو واضح نقصان پہنچا ہے۔
جہاں تک 2026-27 میں مہنگائی کے منظرنامے کا تعلق ہے، آئی ایم ایف اور سالانہ منصوبے کے مطابق اوسط شرحِ مہنگائی 7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو 2025-26 کے برابر ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگ دوبارہ شدت اختیار کرنے اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کے امکانات سازگار نہیں۔
اگر 2026-27 کے دوران یہ تنازع برقرار رہا تو برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 114 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے یا اس سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جس سے پاکستان میں مہنگائی مزید تیز ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورت میں دوہرے ہندسے کی مہنگائی برقرار رہ سکتی ہے اور اس کے 15 فیصد تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔
مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسیوں کا بنیادی مرکز خوراک کی قیمتوں، بالخصوص گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو روکنا ہونا چاہیے، جیسا کہ 2025-26 میں دیکھنے میں آیا۔ بصورت دیگر تیل اور خوراک دونوں کی بڑھتی قیمتیں پاکستان کے بیشتر گھرانوں کے معیارِ زندگی کو مزید متاثر کریں گی۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو 2019-20 میں کووڈ-19، 2022-23 کے تباہ کن سیلاب اور اب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد بھی کوئی حقیقی ریلیف نہیں مل سکا۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ قدر اور قابلِ اعتراف ہیں۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments