بلوچستان میں 10 دہشت گرد ہلاک، دو خواتین خودکش بمبار دھرلی گئیں، آئی ایس پی آر
- سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں قائم ”فتنہ الہندوستان“ اور“فتنہ الخوارج“ کے گٹھ جوڑ سے تعلق رکھنے والے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی سرپرستی میں قائم فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد گٹھ جوڑ کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے تسلسل میں بلوچستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے باقی ماندہ عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع مشترکہ آپریشنز جاری ہیں۔بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع سوراب اور مستونگ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر علاقے کو پاک کرنے اور ہدف شدہ کارروائیاں کیں۔ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ضلع سوراب میں سات دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ جبکہ ضلع مستونگ میں بھارتی سرپرستی میں قائم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گرد ہلاک اور ایک سہولت کار سمیت دو خاتون خودکش بمباروں کو گرفتار کر لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ علاقے میں موجود کسی بھی دیگر بھارتی سرپرست دہشت گرد کے خاتمے کے لیے آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔اس سے قبل جولائی کے شروع میں بلوچستان میں تین بڑی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں کم از کم 54 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ مختلف دہشت گردانہ حملوں میں 42 شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ حالیہ حملے مخالف فورسز کی پشت پناہی سے دہشت گرد گروہوں کی ایک منظم مہم کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ حملے بھارت سے جڑی ان دشمن قوتوں کی مدد سے کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کی عزت، خوشحالی اور استحکام کو برداشت نہیں کر سکتیں۔























Comments