حکومت پاکستان نے ورلڈ بینک سے 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی اضافی مالی معاونت اور ”انٹیگریٹڈ فلڈ ریزیلینس اینڈ ایڈاپٹیشن پروجیکٹ“ (آئی ایف آر اے پی) کی تنظیم نو کی درخواست کی ہے، تاکہ منصوبے کو موجودہ عملدرآمد کی صلاحیت، اجزاء کی کارکردگی اور آپریشنل تیاری سے بہتر ہم آہنگ کیا جا سکے، اور اس میں سیلابی خطرات سے نمٹنے کی استعداد پر توجہ مزید مرکوز کی جا سکے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ درخواست حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان اور ورلڈ بینک کی اعلیٰ انتظامیہ کے درمیان متعدد اجلاسوں اور تفصیلی مشاورت کے بعد دی گئی۔ منصوبے کا بنیادی مقصد 2022 کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہائشی سہولیات کی بحالی، ضروری خدمات کی فراہمی اور سیلابی خطرات سے تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔
تجویز کردہ اضافی فنانسنگ (اے ایف) کے تحت نہ صرف 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی نئی رقم شامل کی جائے گی بلکہ منصوبے کے دیگر اجزاء سے 5 کروڑ 40 لاکھ ڈالر دوبارہ مختص کیے جائیں گے، تاکہ بلوچستان میں کثیر خطرات سے تحفظ فراہم کرنے والے مکانات کی تعمیر اور متاثرہ افراد کے روزگار کی فراہمی کو بڑھایا جا سکے۔
اس توسیع کے نتیجے میں مکانات کے لیے دی جانے والی سبسڈی اسکیم کے تحت مستفید افراد کی تعداد موجودہ 35,100 سے بڑھا کر 1,02,000 کر دی جائے گی۔ یہ فنانسنگ ان مستحق خاندانوں کو فائدہ دے گی جن کے مکانات 2022 کے تباہ کن سیلاب میں متاثر ہوئے تھے۔ ان متاثرہ خاندانوں کی نشاندہی پہلے حکومت بلوچستان نے نقصان کے جائزے کے ذریعے کی، جس کی بعد ازاں منصوبے کے نفاذ کار شراکت داروں نے توثیق کی۔
منصوبے کی تنظیم نو کے تحت اجزاء 1 اور 4 کے دائرہ کار میں کمی کی گئی ہے اور نتائج کے فریم ورک میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ نئے اہداف اور اشاریے شامل کیے جا سکیں۔ اس میں عالمی بینک کے کارپوریٹ اسکورکارڈ مالی سال 24–30 کے مطابق ایک نیا انڈیکیٹر بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں میں کسی نئے قسم کی سرگرمی کا اضافہ شامل نہیں اور منصوبے کا بنیادی مقصد (پی ڈی او) جوں کا توں برقرار رہے گا۔ اضافی مالی معاونت کے بعد منصوبے کی مجموعی مالیت بڑھ کر 24 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہو جائے گی۔
بلوچستان ان صوبوں میں شامل ہے جو 2022 کے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ سیلاب کے بعد کیے گئے نقصانات کے تخمینے (پی ڈی این اے) کے مطابق صرف بلوچستان میں رہائشی مکانات کو 40 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔ اس نقصان کے ازالے کے لیے اصل منصوبہ 7 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے آئی ڈی اے کریڈٹ سے شروع کیا گیا، تاہم متاثرہ مکانات کی مکمل بحالی کے لیے اب بھی ایک بڑا مالیاتی خلا موجود ہے۔
منصوبے کے اجزاء درج ذیل ہیں:
اجزاء 1: کمیونٹی انفراسٹرکچر کی بحالی، جس میں آبپاشی، سیلاب سے تحفظ، سڑکوں اور پلوں کی ازسرنو تعمیر شامل ہے، تاکہ موسمیاتی خطرات کے مطابق پائیدار ڈھانچے تعمیر کیے جا سکیں۔ اجزاء 2: محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی صلاحیت میں اضافہ، خاص طور پر بلوچستان اور مغربی علاقوں میں آٹومیٹک ویڈر اسٹیشنز کی تنصیب، جو 300 سے کم ہو کر 110 رہ گئے ہیں۔اجزاء 3: سیلاب سے متاثرہ مکانات کی تعمیر نو اور متاثرین کی بحالی، اور تعمیراتی شعبے سے منسلک روزگار کے مواقع بڑھانا۔ اجزاء 4: منصوبہ جاتی نظم و نسق، تکنیکی معاونت، مانیٹرنگ اور استعداد کار میں اضافہ، بشمول واٹر ایکٹ کی تیاری۔ اجزاء 5: ہنگامی ردعمل کے لیے مختص فنڈ، جسے کسی بھی ناگہانی قدرتی آفت کی صورت میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
نتائج کے فریم ورک میں اب ”سیلابی خطرے سے بہتر تحفظ رکھنے والے افراد“ کے اشاریے کو عالمی بینک کے نئے انڈیکیٹر ”موسمیاتی خطرات سے بہتر تحفظ رکھنے والے افراد“ سے ہم آہنگ کر دیا گیا ہے، جس میں خواتین اور نوجوانوں سے متعلق ذیلی اشاریے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.