سرکاری اداروں کا مجموعی خسارہ 5.8 کھرب روپے ریکارڈ، سی سی او ایس او ایز کا اصلاحات پر زور
- صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران 342 ارب روپے کا خسارہ ہوا؎ جو یومیہ اوسطاً 1.9 ارب روپے بنتا ہے
کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے (سی سی او ایس او ایز) نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 5.8 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جن میں سے صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران 342 ارب روپے کا خسارہ ہوا—جو یومیہ اوسطاً 1.9 ارب روپے بنتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ڈسکوز کی ناقص کارکردگی، این ٹی ڈی سی کی جانب سے نیٹ ورک کو بروقت اپ گریڈ نہ کرنا، پنشن کی غیر مالی اعانت یافتہ ذمہ داریاں اور کمزور طرزِ حکمرانی جیسے مسائل نہ صرف ملکی مالی گنجائش کو محدود کر رہے ہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
چیئرمین نے بروقت اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً بجلی اور توانائی کے شعبوں میں، جہاں گردشی قرضہ 4.9 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سرکاری اداروں کے نظام میں شفافیت، مالیاتی نظم و ضبط اور مؤثر احتساب کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔
کمیٹی کو وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے وفاقی سرکاری اداروں کی کارکردگی سے متعلق ششماہی رپورٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جو جولائی 2024 سے دسمبر 2024 کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے۔
رپورٹ میں سرکاری اداروں کی مجموعی صورتِ حال اور درپیش اہم چیلنجز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا جن میں 5.8 کھرب روپے کے مجموعی نقصانات شامل ہیں، جب کہ صرف چھ ماہ میں 342 ارب روپے کا خسارہ ہوا۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ تیل، گیس اور بجلی کے شعبوں میں گردشی قرضہ 4.9 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو نقدی کے بہاؤ اور اثاثوں کی قدر کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں کو دی جانے والی مالی معاونت—جس میں گرانٹس، سبسڈیز، قرضے اور دیگر مالی امداد شامل ہے—چھ ماہ کے دوران 600 ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے، جو کل محاصل کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔ اس کے علاوہ، ڈسکوز اور دیگر سرکاری اداروں میں پنشن کی غیر مالی اعانت یافتہ ذمہ داریاں، جن کا تخمینہ 1.7 کھرب روپے ہے، ابھی تک سرکاری حسابات میں شامل نہیں کی گئیں اور ریلوے کی پنشن کی واجبات بھی اسی طرح غیر رجسٹرڈ ہیں۔
اجلاس میں یہ بات بھی اجاگر کی گئی کہ اس وقت حکومتی ضمانتوں کا حجم 2.2 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ قرضوں کی تجدید پر اٹھنے والے اخراجات اور مالیاتی ڈھانچے کی بحالی سے متعلق ذمہ داریاں مالی دباؤ کو مزید بڑھارہی ہیں۔ حکمرانی کے مسائل بدستور موجود ہیں، جن میں آئی ایف آر ایس سیکشن 30 کے تحت مفاد رکھنے والے افراد کی شفاف تفصیلات کی عدم فراہمی اور دیگر تعمیلی خامیاں شامل ہیں۔ سرکاری اداروں کے کاروباری منصوبوں میں حکمتِ عملی کی کمی اور آپریشنل غیر موثریت کو اصلاحات کے متقاضی اہم شعبے قرار دیا گیا۔
چیئرمین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری اداروں کے بورڈز میں حکومت کی نمائندگی کرنے والے ڈائریکٹرز کو پوری ذمہ داری اور شعور کے ساتھ اپنی نگرانی کی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں اور ان اداروں کی مالی حالت اور عملی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے دانشمندانہ اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
اجلاس کے دوران پاور ڈویژن کی جانب سے جمع کرائی گئی مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور منظوری دی گئی، جن میں کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے بورڈ میں چیئرمین کی تقرری، انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل، گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (گیپکو) کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹر/چیئرمین اور جینکو ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (جی ایچ سی ایل) میں آزاد ڈائریکٹر کی تقرری، نیز ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) اور پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) کے بورڈز میں آزاد ڈائریکٹرز کی نامزدگیاں، اور انرجی انفرااسٹرکچر ڈیویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (ای آئی ڈی ایم سی) کے بورڈ کی تشکیل شامل تھیں۔
اس کے علاوہ، وزارتِ ریلوے کی جانب سے پیش کی گئی سمری، جس میں تین ریلوے کمپنیوں — ریل کوپ، پراکس اور پی آر ایف ٹی سی — کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی تھی، پر بھی غور کیا گیا اور منظوری دے دی گئی۔
وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری منصوبوں کو قومی ترجیحات کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے اور عملی چیلنجز کو بروقت اور مربوط انداز میں حل کیا جائے۔
محمد اورنگزیب نے اہم سرکاری اداروں میں طرزِ حکمرانی، عملی استعداد اور مالیاتی پائیداری کو مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری، وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی اور متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.