سینیٹ کمیٹی نے اسٹیشنری پر صفر فیصد سیلز ٹیکس کی سفارش کردی، ای کامرس پر ٹیکس کی منظوری دیدی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو نے اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے کم کر کے صفر فیصد کرنے کی سفارش کی ہے، جب کہ ای کامرس مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔
فنانس بل 26-2025 کے جائزے کے سلسلے میں کمیٹی کا مسلسل تیسرا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔
فنانس بل 26-2025 کے سیلز ٹیکس سے متعلق امور پر غور کرتے ہوئے کمیٹی نے اہم اصلاحات تجویز کیں۔ ان میں اسٹیشنری ایسوسی ایشن کی درخواست پر اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش شامل تھی۔
کمیٹی نے ای کامرس مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت کی کہ عام طور پر ای کامرس کے ذریعے خریداری پر سیلز ٹیکس صارف سے وصول کیا جاتا ہے، مگر کئی بار یہ ایف بی آر کو جمع نہیں کروایا جاتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب کوریئر سروسز کو سیلز ٹیکس کی وصولی کے لیے کلیکشن ایجنٹس مقرر کیا جائے گا کیونکہ ان کے پاس فروخت کنندہ کے انوائسز موجود ہوتے ہیں۔
تاہم، ملک کے اندر فراہم کی جانے والی سروسز پر سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ فنانس بل کے تحت تمام ڈیجیٹل وینڈرز، بشمول غیر ملکی کاروبار، کو پاکستان میں رجسٹریشن کروانا ہوگی اگر وہ اپنی مصنوعات مارکیٹ پلیس، ویب سائٹس یا ایپس کے ذریعے پاکستان میں فروخت کرتے ہیں۔
اجلاس میں آن لائن اشیاء بیچنے والے غیر رجسٹرڈ کاروباری اداروں کے خلاف سخت کارروائی سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی اراکین نے چھوٹے پیمانے اور ایک بار فروخت کرنے والے آن لائن فروخت کنندگان پر اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا، جس پر چیئرمین ایف بی آر نے یقین دہانی کروائی کہ گھریلو خواتین اور ایک بار فروخت کرنے والے افراد کو رجسٹریشن سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.