ڈائریکٹر کمیونیکیشنز ڈپارٹمنٹ آئی ایم ایف جولی کوزیک نے کہا ہے کہ مقررہ پروگرام کی شرائط سے کسی بھی قسم کا انحراف پاکستان کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے مستقبل کے جائزوں پر اثر انداز ہوگا۔
پریس بریفنگ کے دوران حفاظتی اقدامات کے سوال پر جواب دیتے ہوئے جولی کوزیک نے تین اہم نکات بیان کیے، جن میں سب سے پہلا یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی مالی معاونت ممبران کو ادائیگی کے توازن کے مسائل کے حل کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے حوالے سے دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ای ایف ایف کے تحت تمام فنڈز براہ راست مرکزی بینک کے ذخائر میں جمع کیے جاتے ہیں۔ یعنی یہ قرض پروگرام پاکستان میں صرف زرمبادلہ ذخائر کے لیے ہے، آئی ایم ایف کا قرض پروگرام پاکستان میں بجٹ سپورٹ کیلئے نہیں۔
تیسرے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے عہدیدار نے کہا کہ پروگرام اضافی حفاظتی اقدامات فراہم کرتا ہے جو شرائط کے تحت ہوتے ہیں۔ ان میں بین الاقوامی ذخائر کے اضافہ کے اہداف شامل ہیں، جن میں صفر قرضہ جات کا ہدف بھی شامل ہے، یعنی مرکزی بینک کی طرف سے حکومت کو کوئی قرضہ نہیں دیا جائے گا۔
پروگرام میں مالیاتی انتظامات کی بہتری کیلئے اہم اسٹرکچر شرائط بھی شامل ہیں۔ یہ تمام شرائط پروگرام دستاویزات میں موجود ہیں، جن کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ مقررہ پروگرام کی شرائط سے کسی بھی قسم کی انحراف پاکستان پروگرام کے مستقبل کے جائزوں پر منفی اثر ڈالے گا۔
بھارت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی تعیناتی ممبر ممالک کا معاملہ ہے، یہ آئی ایم ایف کا فیصلہ نہیں ہوتا اور یہ مکمل طور پر متعلقہ ملک کے حکام پر منحصر ہے کہ وہ آئی ایم ایف میں اپنی نمائندگی کس کو دیں۔
پاکستان اور بھارت کے تنازع کے حوالے سے انہوں نے جان و مال کے نقصان پر افسوس اور گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اس تنازع کا پرامن حل نکلے۔
پروگرام کی منظوری سے متعلق مخصوص سوالات کے جواب میں، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ای ایف ایف پروگرام کو ستمبر 2024 میں منظور کیا تھا، اس کے تحت پہلا جائزہ 2025 کے پہلے سہ ماہی میں منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
اسی ٹائم لائن کے مطابق 25 مارچ 2025 کو آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان ای ایف ایف کے پہلے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کو ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے 9 مئی کو جائزہ مکمل کیا۔ اس جائزے کے مکمل ہونے پر پاکستان کو اس وقت رقم کی ادائیگی کی گئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.