عالمی ٹیرف کی جنگ کے دوران تجارتی تناؤ پاکستان کو علاقے کے دوسرے ممالک سے زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔
یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے شعبے کے ڈائریکٹر جہاد ازور نے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے علاقائی اقتصادی منظرنامے پر پریس بریفنگ کے دوران کہی۔
عالمی محصولات کی جنگ کے پاکستان پر اثرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یقینا تجارتی کشیدگی پاکستان کو خطے میں اوسط سے زیادہ متاثر کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پر براہِ راست اثرات کو دیگر اقدامات کے ذریعے کم کیا جاسکتا ہے جو پاکستانی معیشت کو تجارتی مواقع اور اقتصادی مواقع کے لحاظ سے دنیا میں ہونے والی بڑی تبدیلی کے درمیان اپنے آپ کو دوبارہ پوزیشن دینے کی اجازت دیں گے تاکہ کسی بھی خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے اور تجارتی راستوں میں تبدیلی سے فائدہ بھی اٹھایا جاسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند ممالک جیسے پاکستان یا اردن، امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات میں زیادہ مشغول ہیں اور یہ مخصوص کیسز ہیں ۔ کسی بھی تبدیلی میں مواقع بھی ہوتے ہیں اور پچھلے چند سال میں جغرافیائی سیاست اور جغرافیائی معیشت کے محاذ پر مسلسل جھٹکے اور تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں اور ان کا اثر خطے پر پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ خطہ مشرق اور مغرب کے درمیان چوراہے پر کھڑا ہے اور اسی وجہ سے تجارتی راستے، رابطے اور مواقع بھی اس خطے سے گزرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لئے خطے کے ممالک کو اپنے قریبی علاقوں کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہوگی ، جس سے خطے میں رابطے اور تعاون بڑھانے کے نئے طریقوں کی ضرورت ہوگی۔
آئی ایم ایف کے عہدیدار نے مزید کہا کہ پاکستان نے پچھلے 18 ماہ میں میکرو اکنامک استحکام بحال کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے اور پاکستان کے لیے اعداد و شمار میں بہتری دکھائی دے رہی ہے، دونوں نمو کے لحاظ سے اور مہنگائی کے حوالے سے جو گزشتہ سال 2024 کے مالی سال میں 12.6 فیصد تھی، اور اس سال 6.5 فیصد تک گرچکی ہے، جو اگلے سال بھی اسی سطح پر رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے قرضوں میں بھی استحکام آ رہا ہے، اور حال ہی میں پاکستان کو ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.