BR100 Increased By (1.42%)
BR30 Increased By (1.24%)
KSE100 Increased By (1.02%)
KSE30 Increased By (1.18%)
BAFL 57.18 Increased By ▲ 0.79 (1.4%)
BIPL 26.75 Increased By ▲ 0.19 (0.72%)
BOP 33.78 Increased By ▲ 0.73 (2.21%)
CNERGY 9.60 Decreased By ▼ -0.08 (-0.83%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.32 (1.76%)
DGKC 207.00 Increased By ▲ 2.99 (1.47%)
FABL 99.00 Increased By ▲ 2.03 (2.09%)
FCCL 51.84 Increased By ▲ 0.93 (1.83%)
FFL 16.66 Increased By ▲ 0.10 (0.6%)
GGL 23.31 Increased By ▲ 0.54 (2.37%)
HBL 303.20 Increased By ▲ 5.16 (1.73%)
HUBC 216.90 Increased By ▲ 0.47 (0.22%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.23 (2.15%)
KEL 7.44 Decreased By ▼ -0.08 (-1.06%)
LOTCHEM 30.58 Increased By ▲ 0.24 (0.79%)
MLCF 95.78 Increased By ▲ 2.46 (2.64%)
OGDC 320.70 Increased By ▲ 1.20 (0.38%)
PAEL 41.40 Increased By ▲ 0.34 (0.83%)
PIBTL 16.70 Increased By ▲ 0.25 (1.52%)
PIOC 262.50 Increased By ▲ 5.49 (2.14%)
PPL 223.49 Increased By ▲ 0.91 (0.41%)
PRL 41.55 Decreased By ▼ -0.50 (-1.19%)
SNGP 104.40 Decreased By ▼ -0.10 (-0.1%)
SSGC 28.50 Increased By ▲ 0.12 (0.42%)
TELE 8.71 Increased By ▲ 0.08 (0.93%)
TPLP 12.13 Increased By ▲ 1.10 (9.97%)
TRG 57.70 Decreased By ▼ -1.11 (-1.89%)
UNITY 9.68 Increased By ▲ 0.08 (0.83%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
دنیا

حملوں کے بعد بعض بحری جہازوں نے امریکی فوج کی رہنمائی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے سے انکار کر دیا، ذرائع

  • 7 جولائی سے اب تک تقریباً پانچ بحری جہاز حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

بحری سلامتی اور شپنگ انڈسٹری سے وابستہ سات ذرائع کے مطابق ایرانی حملوں کی نئی لہر کے بعد پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات کے باعث شپنگ کمپنیاں امریکی فوج کی رہنمائی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے منصوبے سے گریز کر رہی ہیں۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے بحری جہاز خلیج میں آمد و رفت کے لیے آبنائے ہرمز کے وسط میں قائم محفوظ بحری راستوں سے گزرتے رہے ہیں، جنہیں اقوام متحدہ کے بحری ادارے نے 1968 میں ”ٹریفک سیپریشن اسکیم“ کے تحت متعین کیا تھا۔

تاہم 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی فورسز نے اس علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا دیں، جس کے باعث جہازوں کو ایران یا عمان کے ساحل کے قریب قائم دو عارضی راستوں میں سے کسی ایک کو استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔

خلیجی توانائی کی برآمدات جاری رکھنے کی کوشش

رواں سال جون میں رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج نے خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے ایک خفیہ آپریشن کے تحت بحری جہازوں کی رہنمائی کی، جس میں درجنوں خفیہ جہاز سے جہاز تیل کی منتقلی کی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔ اس مقصد کے لیے فضائی اور آبی ڈرونز کے ساتھ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے آئل ٹینکروں کو محفوظ راستہ فراہم کیا گیا۔

امریکی معاونت سے ہونے والی اس کارروائی کے نتیجے میں کروڑوں بیرل تیل برآمد کیا جا سکا، جس سے تیل اور گیس کی سپلائی میں تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹ کے باوجود عالمی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ کم رکھنے میں مدد ملی۔

تاہم جہاز رانی کی کمپنیاں اب آبنائے ہرمز کے عمانی حصے سے گزرنے والے راستے کو بھی حملوں کے بعد زیادہ خطرناک سمجھنے لگی ہیں۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو متحدہ عرب امارات کے دو بڑے آئل سپر ٹینکروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اقوام متحدہ کے بحری ادارے کے اعداد و شمار پر مبنی تجزیے کے مطابق 7 جولائی سے اب تک تقریباً پانچ بحری جہاز عمانی پانیوں میں حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں تین خام تیل کے سپر ٹینکر، ایک مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز اور ایک کنٹینر شپ شامل ہیں۔ یہ تمام واقعات امریکی منصوبے کے تحت استعمال ہونے والے بحری راستے پر پیش آئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا تمام متاثرہ جہاز امریکی فوج کی رہنمائی میں سفر کر رہے تھے یا نہیں۔

شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ایک ذریعے نے کہا، ”ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکا صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہے۔“ ان کے مطابق عملے کی سلامتی اور بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ان کی کمپنی نے آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔

خطرات کا جائزہ لینے والی کمپنی ویریسک میپل کرافٹ کے مشرقِ وسطیٰ امور کے چیف تجزیہ کار ٹوربیورن سولویڈٹ نے کہا کہ عمانی راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایران کی مسلسل صلاحیت ظاہر کرتی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کا منصوبہ کامیاب ہونے کا امکان کم ہے۔

اس معاملے پر تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

امریکی ناکہ بندی کی بحالی سے کشیدگی میں اضافہ

امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ گزشتہ سات روز کے دوران 100 سے زائد بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے براہِ راست امریکی فوج سے رابطہ کیا، جبکہ مجموعی طور پر 300 سے زیادہ جہاز اس خطے سے گزرے۔ ان کے بقول یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا کی قیادت میں کی جانے والی کارروائیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں، اگرچہ جہازوں کی آمد و رفت جنگ سے پہلے کی سطح سے اب بھی کم ہے۔

بدھ کو ایران نے خطے سے مزید توانائی کی برآمدات روکنے کی دھمکی دی، جب امریکا نے ایران سے منسلک بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی اور دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی کشمکش کے دوران ایک دوسرے پر مزید حملے کیے۔

تہران اس بات کا اشارہ بھی دے رہا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب آبنائے کو بند کر سکتا ہے، جو بحیرۂ احمر کا داخلی راستہ ہے۔ اس اقدام سے امریکا کے خلاف ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے اور دنیا کی دو اہم ترین بحری تجارتی گزرگاہیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

ایک اور شپنگ ذریعے کے مطابق، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے والے یونانی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تقریباً نو ایل این جی بردار جہاز سلامتی کے خدشات کے باعث آبنائے کے اندر ہی پھنس گئے ہیں۔

اس کے علاوہ 7 جولائی سے اب تک آبنائے ہرمز سے باہر کھلے سمندر میں مزید دو آئل ٹینکر بھی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

”آبنائے ہرمز کھلی ہے“، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ”آبنائے ہرمز ایران کے علاوہ تمام بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے۔“

امریکا نے منگل کو ایران سے منسلک بحری جہازوں کے خلاف اپنی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی۔

گزشتہ ہفتے امریکی بحریہ کے زیرِ انتظام جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے خطرے کی سطح ”سبسٹینشل“ سے بڑھا کر ”سیویئر“ کر دی، جو اس کے اعلیٰ ترین درجے ”کریٹیکل“ سے صرف ایک درجہ کم ہے۔

خطرے کی سطح میں یہ اضافہ تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد کیا گیا۔

گزشتہ ماہ امریکی رابطہ کاری کے تحت بحری گزرگاہی منصوبہ شروع ہونے کے بعد امریکی بحریہ کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں شپنگ کمپنیوں کو بتایا گیا تھا کہ جہازوں کے عملے کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم ہر صورت میں حقیقی وقت میں خطرات سے متعلق معلومات فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

پانچ ذرائع کے مطابق امریکی فوج نے عمانی بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو درپیش خطرات کے بارے میں خاطر خواہ وضاحت فراہم نہیں کی۔

ایک بحری سلامتی کے ذریعے نے کہا، ”امریکا کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز بند نہیں اور اس سے گزرنا ممکن ہے، لیکن اس سے شپنگ آپریٹرز میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ اگرچہ ہر کمپنی کو اپنا خطرے کا جائزہ خود لینا ہوتا ہے، لیکن جب راستہ واضح طور پر محفوظ نہیں تو پھر اسے کھلا کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟“

یونانی بحری سلامتی کمپنی ڈیاپلوس نے منگل کو جاری کردہ اپنی ہدایت میں کہا کہ خطرات کی سطح بدستور بلند ہے، لہٰذا شپنگ کمپنیوں کو ہفتے تک اپنے بحری سفر مؤخر کر دینے چاہییں۔

ایک اور یونانی بحری سلامتی کمپنی میریسکس نے بھی علیحدہ ہدایت نامے میں کہا کہ ”فی الحال اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت قابلِ قبول حد تک محفوظ طریقے سے انجام دی جا سکتی ہے۔“

Comments

200 حروف