BR100 Increased By (1.75%)
BR30 Increased By (1.81%)
KSE100 Increased By (1.62%)
KSE30 Increased By (1.61%)
BAFL 57.85 Increased By ▲ 0.82 (1.44%)
BIPL 27.33 Increased By ▲ 0.52 (1.94%)
BOP 34.19 Increased By ▲ 0.47 (1.39%)
CNERGY 9.66 Increased By ▲ 0.09 (0.94%)
DFML 18.67 Increased By ▲ 0.34 (1.85%)
DGKC 213.50 Increased By ▲ 6.70 (3.24%)
FABL 100.67 Increased By ▲ 1.70 (1.72%)
FCCL 54.22 Increased By ▲ 2.34 (4.51%)
FFL 16.84 Increased By ▲ 0.15 (0.9%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.52 (2.21%)
HBL 308.81 Increased By ▲ 5.49 (1.81%)
HUBC 221.81 Increased By ▲ 4.29 (1.97%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 7.60 Increased By ▲ 0.17 (2.29%)
LOTCHEM 30.35 Decreased By ▼ -0.23 (-0.75%)
MLCF 98.16 Increased By ▲ 2.49 (2.6%)
OGDC 323.36 Increased By ▲ 2.37 (0.74%)
PAEL 42.29 Increased By ▲ 0.91 (2.2%)
PIBTL 16.88 Increased By ▲ 0.11 (0.66%)
PIOC 285.00 Increased By ▲ 22.15 (8.43%)
PPL 224.73 Increased By ▲ 0.53 (0.24%)
PRL 41.50 Increased By ▲ 0.10 (0.24%)
SNGP 110.25 Increased By ▲ 6.12 (5.88%)
SSGC 29.40 Increased By ▲ 0.99 (3.48%)
TELE 9.00 Increased By ▲ 0.31 (3.57%)
TPLP 12.77 Increased By ▲ 0.64 (5.28%)
TRG 60.45 Increased By ▲ 2.82 (4.89%)
UNITY 10.28 Increased By ▲ 0.57 (5.87%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.04 (3.23%)
دنیا

امریکی حملے کی صورت میں ایران نے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کی ہدایت کردی ، ذرائع

  • اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت اس تجویز پر غور کر رہی ہے، جبکہ یہ پیغام اس کے اتحادی حوثیوں کو بھی پہنچا دیا گیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

رائٹرز کو جمعرات کو تین ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے یمن کی حوثی تحریک سے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو وہ بحیرۂ احمر کے تیل بردار بحری راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہے۔ اس پیش رفت سے عالمی توانائی کی رسد کو ایک نئے اور سنگین خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

دو سینئر ایرانی ذرائع اور معاملے سے باخبر ایک علاقائی ذریعے نے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ اس تجویز پر اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قیادت میں غور کیا گیا اور یہ پیغام ایران کے اتحادی حوثیوں تک بھی پہنچا دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حوثیوں کو تہران کی یہ ہدایت حال ہی میں دی گئی، تاہم اس کی تفصیلات اس سے پہلے منظرِ عام پر نہیں آئی تھیں۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیغام کس ذریعے سے پہنچایا گیا یا آیا یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منگل کو ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی کے بعد بھیجا گیا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ اور حوثی گروپ کے ترجمان نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

حوثیوں کے قریبی ایک ذریعے نے بتایا کہ گروپ نے بحیرۂ احمر کے داخلی راستے باب المندب کے قریب بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس مقصد کے لیے حدیدہ اور خلیجِ عدن سے متصل یمن کے پہاڑی علاقوں میں میزائل اور ڈرون تعینات کر دیے گئے ہیں اور اب صرف کارروائی کے حکم کا انتظار ہے۔

بحیرۂ احمر اور باب المندب کو لاحق کسی بھی خطرے سے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پیدا ہونے والا عالمی توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ یہ صورتحال خطے میں نئی جنگ کے خطرات کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

اگر آبنائے ہرمز پہلے ہی بند ہو اور اس کے ساتھ حوثی بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں یا بندرگاہوں پر حملے شروع کر دیں، تو مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمد کے دونوں اہم بحری راستے بیک وقت متاثر ہوں گے، جس سے نہ صرف توانائی کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا بلکہ ایران اور امریکہ کے وسیع تر تنازع میں بھی ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔

حوثیوں کے قریبی ذریعے کے مطابق یمن میں پہلے سے موجود ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے نمائندے یہ فیصلہ کریں گے کہ باب المندب کو کب بند کیا جائے۔

خطے میں کشیدگی میں اضافے کے ایک اور اشارے کے طور پر حوثیوں نے پیر کو سعودی عرب پر میزائل داغے۔ حوثیوں نے الزام عائد کیا کہ سعودی عرب نے ان کے زیرِ کنٹرول ایک ہوائی اڈے پر بمباری کی، جس کے ساتھ ہی دونوں فریقوں کے درمیان گزشتہ چار برس سے جاری جنگ بندی بھی ٹوٹ گئی۔

خطرات کا جائزہ لینے والی کمپنی ویریسک میپل کرافٹ کے مشرقِ وسطیٰ کے چیف تجزیہ کار ٹوربیورن سولویڈٹ نے کہا کہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جو انتہائی حساس ہے۔

انہوں نے کہا، ”اگر لڑائی میں شدت آتی ہے اور اس کا دائرہ بحیرۂ احمر میں تیل کی برآمدی تنصیبات اور بحری جہاز رانی تک پھیل جاتا ہے تو یہ خطے سے تیل کی برآمد کے واحد بڑے متبادل راستے کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔“

ریاض کے قریبی دو علاقائی ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب ایران اور حوثیوں کی دھمکیوں کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے، جبکہ اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ حوثی اب بحیرۂ احمر کے معاملے پر ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔

یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا، جس کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی رسد گزرتی تھی۔

جون میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والی نازک جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی، جس سے ایک بار پھر مکمل جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی۔

بحیرۂ احمر کی بندش مشکل نہیں، ذریعہ

اس کے بعد خلیجی ممالک کے تیل کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب کی پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ احمر منتقل کیا جانے لگا، اور اب یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تقریباً 7 فیصد رسد کا راستہ بن چکی ہے۔

غزہ جنگ کے دوران جب حوثیوں نے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تھا تو بڑی عالمی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کا رخ افریقہ کے گرد واقع طویل اور مہنگے بحری راستے کی جانب موڑ دیا تھا۔

سعودی عرب بھی اپنی 70 فیصد توانائی کی برآمدات بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع کے ذریعے کر رہا ہے، اس لیے اگر اس بندرگاہ یا اس راستے کو نشانہ بنایا گیا تو عالمی تیل منڈیوں کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

علاقائی ذرائع میں سے ایک نے بتایا کہ ایران کی مذہبی قیادت عالمی معیشت پر ممکنہ لاگت بڑھا کر امریکہ پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی اور اس راستے سے سعودی تیل کی برآمدات کو خطرے میں ڈالنے کا تصور بھی ایران کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اس ذریعے نے کہا کہ باب المندب کو بند کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اس کے بقول، ”جہاز رانی میں خلل ڈالنے کے لیے جدید میزائلوں کی ضرورت نہیں، بندوق رکھنے والا کوئی بھی شخص اس میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔“

ایران حوثیوں کو اپنے علاقائی ”محورِ مزاحمت“ کا حصہ سمجھتا ہے، جس میں لبنان کی حزب اللہ اور عراق کے شیعہ مسلح گروہ بھی شامل ہیں، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی میں پہلے ہی شریک ہو چکے ہیں۔

تاہم حوثیوں نے اب تک باضابطہ طور پر اس جنگ میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔

امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران نے حوثیوں کو اسلحہ، مالی معاونت اور تربیت فراہم کی ہے، جس میں حزب اللہ کے ذریعے پہنچائی جانے والی مدد بھی شامل ہے، تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

Comments

200 حروف