BR100 Decreased By (-1.21%)
BR30 Decreased By (-1.49%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 57.10 Decreased By ▼ -0.59 (-1.02%)
BIPL 27.10 Decreased By ▼ -0.32 (-1.17%)
BOP 33.80 Decreased By ▼ -0.39 (-1.14%)
CNERGY 9.79 Increased By ▲ 0.17 (1.77%)
DFML 18.50 Decreased By ▼ -0.13 (-0.7%)
DGKC 207.90 Decreased By ▼ -5.13 (-2.41%)
FABL 99.00 Decreased By ▼ -1.79 (-1.78%)
FCCL 53.80 Decreased By ▼ -0.35 (-0.65%)
FFL 16.70 Decreased By ▼ -0.14 (-0.83%)
GGL 23.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.54%)
HBL 305.64 Decreased By ▼ -3.62 (-1.17%)
HUBC 218.18 Decreased By ▼ -3.35 (-1.51%)
HUMNL 10.68 Decreased By ▼ -0.21 (-1.93%)
KEL 7.33 Decreased By ▼ -0.26 (-3.43%)
LOTCHEM 29.20 Decreased By ▼ -1.23 (-4.04%)
MLCF 96.09 Decreased By ▼ -2.07 (-2.11%)
OGDC 318.00 Decreased By ▼ -5.36 (-1.66%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.25 (-0.59%)
PIBTL 16.57 Decreased By ▼ -0.25 (-1.49%)
PIOC 281.00 Decreased By ▼ -4.96 (-1.73%)
PPL 220.39 Decreased By ▼ -4.34 (-1.93%)
PRL 44.55 Increased By ▲ 2.90 (6.96%)
SNGP 108.00 Decreased By ▼ -2.19 (-1.99%)
SSGC 28.90 Decreased By ▼ -0.41 (-1.4%)
TELE 8.84 Decreased By ▼ -0.15 (-1.67%)
TPLP 12.19 Decreased By ▼ -0.58 (-4.54%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.74%)
UNITY 10.15 Decreased By ▼ -0.22 (-2.12%)
WTL 1.24 Decreased By ▼ -0.03 (-2.36%)
دنیا

خطرناک کشیدگی : امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کی اہم تنصیبات پر حملے

  • امریکہ کی ایران میں پُلوں اور ایئرپورٹ پر بمباری، تہران کا کویت میں پاور اور واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ پر جوابی حملہ
شائع اپ ڈیٹ

امریکہ نے جمعہ کو ایران میں پُلوں اور ایک ہوائی اڈے پر حملے کیے جبکہ تہران نے جواب میں کویت میں ایک پاور اور واٹر ڈی سیلینیشن (نمکین پانی کو میٹھا بنانے کے) پلانٹ کو نشانہ بنایا۔

دونوں جنگی حریفوں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو نشانہ بنائے جانے سے اس تنازع میں مزید خطرناک شدت آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔آبنائے ہرمز کے متنازعہ علاقے میں جہاں اس نئی کشیدگی کے باعث ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ سے عالمی توانائی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے، امریکی میرینز ایک آئل ٹینکر پر سوار ہو گئے جبکہ ایک اور جہاز پر میزائل یا گولہ لگنے کی اطلاع ملی ہے۔ ادھر یمن کے ساحل کے قریب مسلح افراد ایک اور بحری جہاز پر سوار ہو گئے، اگرچہ ایک بحری سیکورٹی ذریعے کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایران تنازع کے بجائے صومالی قزاقوں کی کارروائی معلوم ہوتا ہے۔

پچھلے ہفتے جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے واشنگٹن اور تہران مسلسل ایک دوسرے کی برداشت کا امتحان لے رہے ہیں، جس سے دوبارہ ایک ہمہ گیر جنگ شروع ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کی دھمکی دی ہے اور ایران کے ساحلوں یا جزائر پر زمینی حملے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ امریکی حکام کے مطابق جنوبی ایران پر حملوں کا مقصد جزوی طور پر ٹرمپ کو مزید فوجی آپشنز فراہم کرنا ہے۔ایسے اقدامات سے یہ خطرہ ہے کہ ایران جواباً کمزور پڑوسی عرب ممالک کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے یا یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے کروا کر عالمی توانائی کی سپلائی کو مزید درہم برہم کر سکتا ہے۔

ایران میں پُلوں اور کویت میں پلانٹ پر حملے

حالیہ حملوں میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے نشانہ بنائے جانے والے اہداف میں فوجی لاجسٹکس انفرااسٹرکچر کو شامل کیا ہے اور ایک ہفتے سے زائد عرصے میں یہ پہلا موقع ہے جب بنیادی ڈھانچے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوب میں کم از کم پانچ پُلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنوبی بندرگاہ بندر خمیر میں پُلوں پر ہونے والے حملوں میں سات افراد مارے گئے، جہاں ریلوے اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ساحل سے دور مشرق میں پاکستان کی سرحد سے متصل صوبے کے شہر ”ایران“ میں ایک ہوائی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا۔رائٹرز ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا، جن میں دیگر ہلاکت خیز حملوں کا بھی ذکر ہے، بشمول ایک ایسا حملہ جس میں بندر عباس کی بندرگاہ پر ایک خاتون جاں بحق اور ان کا بچہ زخمی ہو گیا۔جواب میں ایران نے ان خلیجی ممالک پر حملوں کا اعلان کیا جو امریکی فضائی اڈوں کی ميزبانی کرتے ہیں، جن میں بحرین، قطر اور کویت شامل ہیں۔ کویت کے حکام نے بتایا کہ ملک کا ایک بجلی اور پانی صاف کرنے کا اسٹیشن ایرانی حملے کی زد میں آیا ہے، جس سے تاسیسات کو نقصان پہنچا، آگ بھڑک اٹھی اور بجلی پیدا کرنے والے متعدد یونٹس معطل ہو گئے۔ وزارتِ بجلی، پانی اور قابلِ تجدید توانائی کے مطابق فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پا لیا ہے، جبکہ تکنیکی ٹیموں نے نقصان کا اندازہ لگانا، اسٹیشن کو محفوظ بنانا اور جلد از جلد بجلی کی بحالی کا کام شروع کر دیا ہے۔

دولت مند خلیجی عرب ممالک اپنے صحرائی شہروں کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے بجلی اور سمندری پانی سے نمک الگ کرنے والے ان پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ جب 30 مارچ کو ایران نے کویت کے ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا تو اسے ایک بڑی کشیدگی دیکھا گیا تھا، جس نے امریکہ کو ایک ہفتے بعد جنگ کی پہلی جنگ بندی کا اعلان کرنے پر مجبور کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

آبنائے ہرمز پر تنازعہ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت، قطر اور بحرین میں امریکی اڈوں اور عمان میں ایک امریکی راڈار اسٹیشن کو نشانہ بنایا ہے۔ قطری دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ گولے کے ٹکڑے لگنے سے ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔ ایران نے بظاہر اس جنگ میں پہلی بار شام پر بھی فائرنگ کی، جس میں اس کے بقول تانف میں امریکی اسپیشل فورسز کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ شام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج رواں سال کے شروع میں وہاں سے نکل چکی تھیں۔ ایک شامی فوجی ذریعے کے مطابق یہ حملہ اڈے کے قریب ہوا جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والا عبوری معاہدہ 7 جولائی سے برقرار نہ رہ سکا، جب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملہ کیا اور امریکہ نے فضائی حملوں سے جواب دیا۔ اس کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی بین الاقوامی قیمت مزید 2 فیصد بڑھ کر تقریباً 86 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو ایک ماہ قبل جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی اپنی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔

سمندر میں ہونے والی تازہ ترین کارروائی میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ناکہ بندی پر عمل درآمد کے لیے ایک آئل ٹینکر کا کنٹرول سنبھالا اور میرینز کی ہیلی کاپٹر سے رسیوں کے ذریعے جہاز کے ڈیک پر اترنے کی تصاویر جاری کیں، جہاں ایک اہلکار ایرانی پرچم کے سامنے پوز دے رہا ہے۔ خلیج سے ہٹ کر مسلح افراد نے خلیجِ عدن میں یمن کے ساحل کے قریب بحیرہ احمر کے دہانے پر ایک چھوٹے کیمیکل ٹینکر کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ ایک بحری سیکورٹی ذریعے کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایران کے یمنی اتحادیوں (حوثیوں) کے بجائے صومالی قزاقوں سے متعلق معلوم ہوتا ہے۔

اگرچہ ایران اور امریکہ پچھلے ہفتے سے روزانہ ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے اب تک جنگ کے شروع میں طے شدہ پیرامیٹرز (حدود) سے باہر نکلنے سے گریز کیا تھا، جب جوابی کارروائی کے خوف سے سویلین بنیادی ڈھانچے اور بڑے معاشی اہداف کو حملوں سے باہر رکھا گیا تھا۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے ایرانی انفرااسٹرکچر پر حملے کی دھمکیاں پوری کیں تو وہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں سویلین بنیادی ڈھانچے پر حملے کرے گا۔ایران نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں کو ایک اور اہم آبنائے یعنی بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ”باب المندب“ کو بند کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے، جس سے خلیج کو بائی پاس کرنے والا مشرقِ وسطیٰ کے تیل کا واحد متبادل راستہ بھی بند ہو جائے گا۔ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران نے حوثیوں کو پہلے ہی ہدایات جاری کر دی ہیں کہ اگر واشنگٹن نے ایرانی انفرااسٹرکچر پر حملہ کیا تو وہ کارروائی کریں۔ اس تنازعے کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے ٹرمپ پر جنگ کو جلد ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ جمعرات کی رات بنیادی طور پر انتخابی سیکیورٹی کے بارے میں ٹیلی ویژن پر دیے گئے ایک خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران میں بڑی جیت حاصل کر رہا ہے اور آپ بہت جلد اس محنت کا پھل دیکھیں گے۔

Comments

200 حروف