امریکا کے ایران پر نئے حملے، تہران کا جوابی وار، آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان
- غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے والے کنٹینر بردار جہاز پر وارننگ شاٹ فائر کرنے کے بعد آبنائے ہرمز بند کر دی،ایران
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکا نے اتوار کو ایران پر نئے فضائی حملے کیے، جبکہ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی ہے اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ جھڑپوں کے بعد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع ہونے والی جنگ روکنے کے لیے طے پانے والی جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ایک غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے والے کنٹینر بردار جہاز پر وارننگ شاٹ فائر کرنے کے بعد آبنائے ہرمز بند کر دی، جبکہ خبردار کیا کہ کسی بھی جوابی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ تجارتی جہاز اب بھی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی تھی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے ہفتے کے روز ایران کے 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ تین روز کے دوران مجموعی طور پر 300 سے زائد اہداف پر حملے کیے گئے تاکہ آبنائے ہرمز میں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اردن میں امریکی اتحادی کے ایک فوجی اڈے، کویت میں امریکی ریڈار سائٹ، عمان میں امریکی بحری بیڑے کی معاون تنصیبات اور قطر میں جنگی طیاروں کی دیکھ بھال کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز کو بھی ناکارہ بنا دیا گیا۔
ایران نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی مداخلت ختم ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ ادھر عمان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات بھی ہوئے۔


Comments