ایران اور یوکرین جنگوں کا نازک مرحلہ، ٹرمپ آج نیتن یاہو اور زیلنسکی کی میزبانی کریں گے
- دونوں رہنما واشنگٹن ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی یادگاری تقریب میں شرکت کے لیے موجود ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے، ایسے وقت میں جب ایران اور یوکرین کی جنگیں ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور دونوں رہنماؤں کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات مختلف نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔
دونوں رہنما واشنگٹن ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی یادگاری تقریب میں شرکت کے لیے موجود ہیں، جنہیں ٹرمپ کا قریبی اتحادی اور یوکرین کی حمایت کا مضبوط حامی سمجھا جاتا تھا۔
حالیہ مہینوں میں یوکرین کی روس کے خلاف پیش رفت کے بعد ٹرمپ اور زیلنسکی کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، جبکہ نیتن یاہو ایسے وقت میں واشنگٹن پہنچے ہیں جب ایران تنازع کے وسیع تر حل میں پیش رفت نہ ہونے پر وائٹ ہاؤس میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کے بعض حامی بھی مشرق وسطیٰ میں امریکا کی مزید مداخلت پر تنقید کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے ایران پر فضائی حملے عارضی طور پر روک رکھے ہیں تاکہ سفارتی کوششوں کو ایک اور موقع دیا جا سکے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں کارروائیاں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق نیتن یاہو 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل اپنی انتخابی مہم کے لیے ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ روانگی سے قبل انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں ایران، اسرائیل کی سلامتی اور خطے میں امن کے دائرہ کار کو وسعت دینے سمیت اہم امور پر بات چیت ہوگی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی اور ابراہم معاہدوں پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ ٹرمپ سعودی عرب کو بھی ان معاہدوں میں شامل دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم ریاض فلسطینی ریاست کے واضح راستے کے بغیر اس میں شامل ہونے سے انکار کرتا آیا ہے۔
دوسری جانب زیلنسکی کی ٹرمپ سے مختصر نجی ملاقات متوقع ہے، جس میں یوکرین کے لیے فضائی دفاعی نظام، خصوصاً پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کی فراہمی، ڈرون معاہدے کی تکمیل اور روس کے ساتھ امن مذاکرات پر گفتگو ہوگی۔
زیلنسکی بعد ازاں امریکی کانگریس میں تمام 100 سینیٹرز سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پینٹاگون نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ یوکرین کے لیے منظور شدہ 400 ملین ڈالر کی امداد مالی سال 2029 سے قبل مکمل طور پر خرچ نہیں کی جائے گی، جس پر ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن ارکان نے بھی تنقید کی ہے۔