دنیا

ایران اور امریکا حملے روکنے، مذاکرات بحال کرنے پر متفق

  • امریکی عہدیدار کے مطابق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تمام نکات پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے
شائع June 29, 2026 اپ ڈیٹ June 29, 2026 01:12pm

ایران اور امریکہ نے خلیج میں حالیہ کشیدگی روکنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے اتوار کو بتایا کہ اس پیش رفت سے اس عبوری امن معاہدے کو بچانے کی امید پیدا ہوئی ہے، جو گزشتہ چند روز کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جوابی حملوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار تھا۔

امریکی عہدیدار کے مطابق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تمام نکات پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔ فی الحال دونوں فریق کشیدگی کم کریں گے اور بحری جہاز آزادانہ طور پر آمدورفت کر سکیں گے۔ ان کا اشارہ 17 جون کو طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی جانب تھا، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسئوس نے سب سے پہلے جنگ بندی کی اس پیش رفت کی خبر دی۔ ادارے نے ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات منگل کے روز قطر میں دوبارہ شروع ہوں گے۔

سفارت کاری کی جانب واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جمعرات کو آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی میزائل تجارتی جہاز سے ٹکراگیا جس کے بعد کئی روز تک دونوں جانب سے حملوں کا تبادلہ جاری رہا۔ امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر 17 جون کو ہونے والی عبوری جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

ایران نے اتوار کی صبح سویرے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے کچھ ہی دیر بعد کیے گئے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی پاسداری نہ کرے تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود ختم ہو جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیل نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ اس نے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ایک بار پھر نشانہ بنایا اور جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں تنظیم کی زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کر دیا۔ یہ حملہ ہفتے کے روز کیے گئے ایک اور حملے کے بعد ہوا، جو جمعہ کو لبنان کے ساتھ ہونے والی تازہ جنگ بندی کے فوراً بعد کیا گیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر وسیع تر معاہدے کو برقرار رکھنا ہے تو لبنان میں لڑائی کا خاتمہ ضروری ہے۔

ٹرمپ نے ایکسئوس کی رپورٹ سامنے آنے سے قبل سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہم مزید تحمل کا مظاہرہ نہ کر سکیں اور ہمیں وہ کام فوجی کارروائی کے ذریعے مکمل کرنا پڑے، جس کا ہم نے بہت کامیاب آغاز کیا تھا۔

اس سے قبل امریکی فوج نے بتایا تھا کہ اس نے ایران پر ایک اور حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹے بعد کی گئی، جو دنیا میں توانائی کی ترسیل کا سب سے اہم بحری راستہ ہے اور جسے ایران نے تنازع کے بیشتر عرصے میں بڑی حد تک بند رکھا ہوا تھا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔

14 نکاتی عبوری امن معاہدے کا مقصد 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع ہونے والی جنگ کو روکنا، آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر تنازعات پر مذاکرات جاری رکھنا تھا۔

امن معاہدے کے باوجود تشدد اور الزامات

ایک ہفتہ قبل سوئٹزرلینڈ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ثالثی مذاکرات کا ایک دور ہوا تھا، جس کے بعد واشنگٹن نے تہران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی بھی کی تھی، تاہم اس کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی اور اس میں مزید شدت آ گئی۔

ٹرمپ کے بیان کے تقریباً ایک گھنٹے بعد کویتی فوج نے اعلان کیا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے، جبکہ بحرین نے بھی تصدیق کی کہ وہاں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

آئی آر جی سی کے مطابق، امریکی حملوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے نتیجے میں تمام سفارتی عمل مکمل طور پر معطل ہو جائیں گے۔ سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق، آئی آر جی سی کی بحری کمان نے خبردار کیا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے آنے والے دنوں میں جہنم کا سامنا کریں گے۔

ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو تصدیق کی کہ ایران نے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، تاہم اب تک کسی امریکی ہلاکت یا مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی، اگرچہ صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

چند گھنٹے بعد بحرین میں دوسری مرتبہ بھی خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ حکام کے مطابق، ایک ایرانی حملے میں صوبہ محرق کی ایک رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایران کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔

کویتی فوج نے بتایا کہ اس نے دو بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے، جبکہ اس واقعے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

دوسری جانب قطر نے بتایا کہ اس کا ایک شہری ہفتے کے روز لاپتا ہونے والے ایک بحری جہاز پر شیل کے ٹکڑوں سے زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا، جبکہ ایک اور شخص زخمی ہوا۔ قطری وزارت داخلہ کے مطابق یہ واقعہ علاقے میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث پیش آیا، تاہم نہ تو واقعے کی جگہ بتائی گئی اور نہ ہی کسی فریق کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔