امریکہ ایران مذاکرات میں پیش رفت، آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر اختلاف برقرار
- چند اہم نکات پر دونوں جانب سے سخت مؤقف اپنایا گیا ہے، لیکن یہ اختلافات محدود نوعیت کے ہو سکتے ہیں، باقر قالیباف
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق مسائل پر۔ ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی نمایاں فاصلے موجود ہیں۔ ان کے مطابق چند اہم نکات پر دونوں جانب سے سخت مؤقف اپنایا گیا ہے، لیکن یہ اختلافات محدود نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بہت اچھی بات چیت کا دعویٰ کیا، تاہم انہوں نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کو بلیک میلنگ سے بھی خبردار کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے آٹھویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور جنگ بندی جلد ختم ہونے والی ہے۔
ایران نے ہفتے کے روز ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کرتے ہوئے اس اہم گزرگاہ کو بند کر دیا، جس سے عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام امریکی بحری ناکہ بندی کے ردعمل میں کیا گیا ہے، جسے وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ان کی بحریہ دشمنوں کو مزید سخت شکست دینے کے لیے تیار ہے۔
ادھر امریکہ نے اس ناکہ بندی کا دفاع کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے سے قبل کوئی طویل مدتی معاہدہ نہ ہوا تو دوبارہ حملے شروع کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کم از کم دو بحری جہازوں پر فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں، جبکہ بھارت نے اپنے دو جہازوں پر حملے کے بعد ایرانی سفیر کو طلب کر کے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اگرچہ جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد کمی آئی اور عالمی منڈیوں میں بہتری دیکھی گئی، تاہم خلیج میں سینکڑوں جہاز اور ہزاروں ملاح اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، جس سے صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔