گیس لیوی پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے حکومتی کمیٹی قائم
- اجلاس میں پنجاب انفرااسٹرکچر سیس پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا
وزارتِ خزانہ نے لیوی پالیسی اور اس کے حساب کتاب کے فارمولے کا جائزہ لینے اور ممکنہ بہتری کی سفارشات پیش کرنے کے لیے سرکاری اور صنعتی نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔
یہ پیشرفت وزارتِ تجارت میں بڑے برآمد کنندگان اور اعلیٰ حکومتی حکام کے ساتھ منعقدہ اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس کے دوران سامنے آئی۔ اجلاس کا مقصد پاکستان کی برآمدات میں رکاوٹ بننے والے مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کیلئے قابلِ عمل اقدامات کی نشاندہی کرنا تھا۔
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کی جبکہ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی، وزارتِ تجارت کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ سرکاری وزارتوں اور محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بڑے برآمد کنندگان بھی اجلاس میں بالمشافہ اور آن لائن شریک ہوئے۔
یہ مشاورت اس سے قبل منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کے تسلسل میں کی گئی، جس میں پاکستان کی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرنے والے مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان میں توانائی کی بلند لاگت، ٹیکسوں کا بوجھ، مالی وسائل کے حصول میں مشکلات، ضابطہ جاتی طریقہ کار اور عالمی منڈیوں تک رسائی جیسے مسائل شامل ہیں۔
اجلاس میں صنعتی توانائی کی لاگت، بالخصوص گیس لیوی اور اس کی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ وزارتِ خزانہ نے لیوی پالیسی اور اس کے حساب کے فارمولے کا جائزہ لینے اور ممکنہ بہتری کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی غرض سے متعلقہ سرکاری اداروں اور صنعتی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
اجلاس میں پنجاب انفرااسٹرکچر سیس پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس کے دوران برآمدکنندگان نے اس کے اطلاق، وصولی کے طریقۂ کار اور اضافی اخراجات سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں قانونی ضوابط، استثنیٰ کی شرائط اور متعلقہ صوبائی حکام کے ساتھ رابطہ کاری کے حوالے سے وضاحت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ٹیکسز کے حوالے سے اجلاس میں برآمدات سے متعلق موجودہ اہلیت کی حدوں کو معقول بنانے اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بنیاد پر سپر ٹیکس میں متناسب ریلیف دینے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ غیر روایتی برآمد کنندگان کیلئے اضافی سیلز ٹیکس اور ریفنڈز کے طریقۂ کار سے متعلق تحفظات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ تجاویز پر وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر سے مشاورت کے بعد غور کیا جائے گا۔
ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کا بھی جائزہ لیا گیا، بالخصوص اس کے طریقۂ کار سے متعلق تقاضوں، اہلیت کے معیار اور برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ممکنہ بہتری پر غور کیا گیا۔ شرکا نے کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں میں اپنی فروخت بڑھانے کی ترغیب دینے کے لیے ایکسپورٹ گروتھ اسکیم کے تحت مراعات میں اضافے کی تجویز بھی دی۔
برآمد کنندگان نے محکمہ تحفظِ نباتات کی جانب سے سرٹیفکیشن فیس اور دستاویزات میں بار بار ترمیم کے عوض وصول کیے جانے والے چارجز پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں زور دیا گیا کہ ریگولیٹری چارجز کو معقول بنایا جائے تاکہ اداروں کے مالی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے برآمد کنندگان پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جا سکے۔
اجلاس میں کاروباری ویزوں پر پابندیوں، بیرونِ ملک سفر سے متعلق سفری ہدایات اور انشورنس کے اضافی اخراجات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ متعلقہ حکام ان معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ تصدیق شدہ برآمد کنندگان اور کاروباری نمائندوں کے لیے ویزوں کے اجرا کا عمل تیز کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر جام کمال نے زور دیا کہ حکومت مسلسل سفارتی اور تجارتی روابط کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موجودہ تجارتی معاہدوں پر نظرثانی اور چین، جنوبی کوریا، ترکیہ، جاپان اور ویتنام سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ترجیحی تجارتی سہولتوں میں بہتری کے لیے کوشاں ہے۔
چین کے حوالے سے وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کو دی جانے والی ترجیحی سہولتوں کے مطابق ٹیرف میں مزید رعایتوں کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ انہوں نے شرکا کو بتایا کہ جنوبی کوریا کے ساتھ ترجیحی تجارتی انتظامات سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہورہی ہے جبکہ دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ بھی سفارتی مشنز، تجارتی دفاتر اور دوطرفہ مشاورت کے ذریعے روابط جاری ہیں۔
ترکیہ میں پاکستانی ٹائروں کی برآمدات کے لیے منڈی تک رسائی سے متعلق تحفظات پر حکام نے وضاحت کی کہ ٹائروں کی بعض اقسام کو پہلے ہی دوطرفہ ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت رعایتیں حاصل ہیں۔ برآمد کنندگان پر زور دیا گیا کہ وہ متعلقہ مصنوعات کی تفصیلات اور ایچ ایس کوڈز فراہم کریں تاکہ وزارتِ تجارت ترکیہ کے حکام کے ساتھ زیرِ التوا معاملات اٹھا سکے۔
اجلاس میں لائیو اسٹاک اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر تجارت نے زور دیا کہ نئی تجاویز کو حکومت کے جاری اقدامات اور متعلقہ وزارتوں اور نجی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ حالیہ مشاورت سے ہم آہنگ کیا جائے۔ حکام کو ہدایت کی گئی کہ موجودہ پالیسی سمت اور متعلقہ شعبوں کی ترقی کے اضافی امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع سفارشات مرتب کریں۔
پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت کے حوالے سے شرکا نے بین الاقوامی وعدوں پر مسلسل عملدرآمد اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا، تاکہ ترجیحی تجارتی سہولتوں کے تحت منڈیوں تک رسائی محفوظ بنائی جا سکے۔
وزیر تجارت نے زور دیا کہ مشاورت کو وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، ریگولیٹری اداروں اور بڑے برآمد کنندگان کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اخراجات اور طریقۂ کار سے متعلق بظاہر معمولی مشکلات بھی مجموعی طور پر برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہیں، اس لیے ان مسائل پر توجہ دینا ضروری ہے۔
بڑے برآمد کنندگان سے کہا گیا کہ وہ مخصوص مسائل، مجوزہ حل اور حکومت کی جانب سے درکار اقدامات کی نشاندہی کرتے ہوئے مختصر تحریری سفارشات جمع کرائیں۔ متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو بھی زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے تازہ مؤقف اور متوقع مدت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر اتفاق کیا گیا کہ وزارتِ تجارت تمام سفارشات کو یکجا کرکے ایک جامع پریزنٹیشن تیار کرے گی جسے متوقع اعلیٰ سطح اجلاس میں وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
جام کمال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بڑے برآمد کنندگان کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھنے، کاروباری لاگت کم کرنے، عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور پاکستان کی برآمدات پر مبنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

























Comments