عالمی بینک نے 2022 سے اب تک پاکستان کیلئے 3.2 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متحرک کی
- مالی سال 2026 کے دوران عالمی بینک گروپ نے ترقی پذیر ممالک کے لیے نجی شعبے سے ریکارڈ 112 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک کی
عالمی بینک گروپ نے 2022 سے اب تک پاکستان کے لیے نجی شعبے سے تقریباً 3.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک کی ہے، جس میں بڑے پن بجلی منصوبوں اور ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت بھی شامل ہے۔ پاکستان ترقیاتی مالیات میں بڑھتے ہوئے خلا کو پُر کرنے اور سرکاری وسائل کے علاوہ سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق، مالی سال 2026 کے دوران عالمی بینک گروپ نے ترقی پذیر ممالک کے لیے نجی شعبے سے ریکارڈ 112 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک کی، جو مالی سال 2022 میں ریکارڈ کیے گئے 35 ارب ڈالر سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔
بینک نے بتایا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری متحرک کرنے کی کوششوں میں عالمی بینک کی مالی معاونت اور ضمانتوں کے ذریعے بین الاقوامی قرض دہندگان اور مقامی بینکوں کو سرمایہ فراہم کرنے پر آمادہ کرنا، نیز کاروباری اداروں کو ماحول دوست ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا شامل ہے۔
اس سلسلے میں ایک بڑی مثال داسو پن بجلی منصوبہ ہے، جسے واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) عالمی بینک گروپ کی معاونت سے تعمیر کر رہی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ملک میں صاف اور سستی بجلی کی فراہمی بڑھانا ہے۔
عالمی بینک کے رعایتی قرضوں کے ادارے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) کی جانب سے ابتدائی طور پر 588 ملین ڈالر کا قرض اور عالمی بینک کی 460 ملین ڈالر کی ضمانت فراہم کی گئی، جس کی مدد سے بین الاقوامی قرض دہندگان سے 338.5 ملین ڈالر اور مقامی بینکوں کے کنسورشیم سے 144 ارب روپے متحرک کیے گئے۔
داسو منصوبے کے پہلے مرحلے سے قابل تجدید بجلی کی پیداوار میں 2,160 میگاواٹ کا اضافہ متوقع ہے، جبکہ اس سے مقامی روزگار، خدمات اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
ایک اور مثال پنجاب گرین ڈیولپمنٹ پروگرام ہے، جس کے تحت صوبائی حکومت نے ماحولیاتی نظم و نسق بہتر بنانے اور کاروباری اداروں کو صاف ستھری پیداواری ٹیکنالوجیز اپنانے کی ترغیب دینے کی کوشش کی۔
آئی ڈی اے کے 200 ملین ڈالر کے قرض سے معاونت یافتہ اس پروگرام کے ذریعے 102.7 ملین ڈالر کی ماحول دوست سرمایہ کاری متحرک کی گئی، جس میں نجی شعبے کے 52.7 ملین ڈالر شامل ہیں۔ اس پروگرام کے تحت 98 چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور 653 چھوٹے کاروباروں نے صاف ستھری ٹیکنالوجیز اپنائیں، جبکہ تقریباً 1,600 ملازمتیں پیدا ہوئیں۔
اس پروگرام نے کاروباری اداروں کو ماحول دوست پیداوار کی طرف منتقل ہونے میں مدد دے کر ماحولیاتی بہتری کو نجی شعبے کی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع سے منسلک کیا۔
ترقی پذیر ممالک کو بنیادی ڈھانچے، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے اور سماجی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر مالی وسائل درکار ہیں، جن کی ضروریات صرف سرکاری بجٹ اور عوامی مالی معاونت سے پوری نہیں کی جاسکتیں۔ اسی لیے نجی سرمایہ کاری متحرک کرنے کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
اس طریقہ کار کے تحت عالمی بینک گروپ منڈیوں کو مضبوط بنانے، قابل عمل منصوبے تیار کرنے اور مالی معاونت، ضمانتوں اور شراکت داریوں کے ذریعے سرمایہ کاری کے خطرات کم کرنے پر کام کرتا ہے، تاکہ نجی سرمایہ کار سرکاری اور کثیرالجہتی مالی معاونت کے ساتھ منصوبوں میں حصہ لے سکیں۔
پاکستان کے لیے نجی سرمایہ کاری میں اضافہ سرکاری وسائل پر دباؤ کم کرنے کے ساتھ توانائی کے تحفظ، صنعتی جدت، ماحولیاتی تحفظ اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، اس کے فوائد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ متحرک کیے گئے مالی وسائل کس حد تک پیداواری سرمایہ کاری، پائیدار ملازمتوں اور بہتر عوامی خدمات میں تبدیل ہوتے ہیں۔
یہ سرمایہ کاریاں پاکستان کے لیے عالمی بینک گروپ کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حصہ ہیں، جو مالی سال 2026 سے 2035 تک محیط ہے۔ اس فریم ورک میں انسانی سرمائے کی ترقی، نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار معاشی نمو اور معاشی، سماجی و ماحولیاتی مضبوطی میں اضافے کو ترجیح دی گئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments