توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا دباؤ برقرار
- مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی اوسط شرح 10.2 فیصد رہی
دوہرے ہندسے کی مہنگائی کا سلسلہ جاری ہے، کیونکہ کم بنیادی اثر، توانائی کی قیمتوں میں تیز اضافے اور گندم سمیت دیگر غذائی اشیا کی بلند قیمتوں کے باعث گزشتہ 6 ماہ میں سے 5 ماہ کے دوران مہنگائی 10 فیصد سے زائد رہی۔ ستمبر میں مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد رہی، جو اگست میں 11.1 فیصد اور گزشتہ سال اسی ماہ 5.8 فیصد تھی۔
مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی اوسط شرح 10.2 فیصد رہی، جبکہ مارچ 2027 تک مجموعی مہنگائی بلند رہنے کا امکان ہے۔ سازگار بنیادی اثر سامنے آنے سے قبل یہ 9 سے 12 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔ تیل کی بلند قیمتوں سے مہنگائی کے مزید بڑھنے کا خطرہ موجود ہے اور اگر تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں یا مزید بڑھیں تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ چنانچہ چند ترقی یافتہ معیشتوں میں شرح سود میں اضافے کے پیش نظر اکتوبر میں پالیسی ریٹ بڑھانے کے امکان کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔
ستمبر 2026 میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافہ 1.3 فیصد رہا۔ یہ مسلسل تیسرے ماہ 1 فیصد سے زائد رہا ہے اور گزشتہ 7 ماہ میں 5 ماہ کے دوران بھی یہ ایک فیصد سے زیادہ رہی ہے۔ یہ صورتحال یقینی طور پر مہنگائی کے منظرنامے کو مزید اوپر لے جارہی ہے۔ اضافہ بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ اور یوٹیلیٹی اشاریوں میں مرتکز رہا، جس کی وجہ توانائی کی بلند قیمتیں ہیں۔ ان کے بالواسطہ اثرات بھی غذائی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔

تاہم ستمبر میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر اضافہ کم ہو کر 0.2 فیصد رہ گیا، جبکہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران اوسط اضافہ 2.5 فیصد تھا۔ گندم کی قیمتیں اب بھی بڑھ رہی ہیں، تاہم اضافے کی رفتار سست ہورہی ہے، جبکہ بعض دیگر غذائی اشیا، جن میں جلد خراب ہونے والی اور غیر خراب ہونے والی دونوں اقسام شامل ہیں، کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی۔
تاہم قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، کیونکہ ٹرانسپورٹ اشاریہ میں ماہانہ بنیاد پر 5.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ اضافہ 27.4 فیصد رہا۔ شہری علاقوں میں موٹر ایندھن کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 10.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ بنیاد پر اضافہ 37.7 فیصد رہا۔
بجلی کے نرخوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ ہوا، جس کی وجہ 2.1 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ کے بلند فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) تھے۔ بجلی کے نرخوں میں 15.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مائع ہائیڈروکاربن کی قیمتوں میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں ستمبر میں ہاؤسنگ اور یوٹیلیٹیز اشاریہ میں ماہانہ بنیاد پر 3.1 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 12.4 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ تمام عوامل صارفین کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ستمبر میں بنیادی مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر اضافہ کم ہو کر 0.2 فیصد رہ گیا، جبکہ گزشتہ 7 ماہ میں صرف 2 ماہ کے دوران اس میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران بنیادی مہنگائی تقریباً 8 سے 9 فیصد کے درمیان رہی ہے، جبکہ اس سے پہلے کے 6 ماہ میں یہ 6 سے 7 فیصد کے درمیان تھی۔
بنیادی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس میں نسبتاً کم اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دوسرے مرحلے کے اثرات اب تک محدود رہے ہیں۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ زرعی، گھریلو اور صنعتی شعبوں میں بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کا استعمال ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ اب تک اجرتوں میں اضافے کے لیے نسبتاً کم دباؤ رہا ہے۔
تاہم اگر آنے والے مہینوں میں تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو یہ رجحان تبدیل ہوسکتا ہے۔ موسم سرما سے قبل توانائی، خصوصاً گیس، کی عالمی موسمی طلب بڑھ رہی ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے کے آثار بھی نظر نہیں آرہے۔ اس صورتحال کے باعث توانائی کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد ہدف سے مہنگائی کے اوپر رہنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
لہٰذا فعال زری اور شرحِ مبادلہ کی پالیسیوں کے ذریعے مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنا ناگزیر ہے۔ بیرونی دباؤ فی الحال محدود ہے، تاہم مہنگائی کا دباؤ بتدریج بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آئندہ 3 ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں چند فیصد کمی نہ آئی تو اسٹیٹ بینک 26 اکتوبر کو ہونے والے زری پالیسی جائزے میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔
























Comments