چین امریکا تجارتی جنگ بندی میں توسیع، مذاکرات آگے بڑھانے کی گنجائش پیدا
- دونوں ممالک کی جانب سے قائم کیے جانے والے تجارتی کونسل کے تحت ابتدائی اقدامات میں 30 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر باہمی ٹیرف میں کمی پر بات چیت شامل ہے۔
چین نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ بندی میں دو ماہ کی توسیع دونوں ممالک کو اقتصادی اور تجارتی معاملات کے حل کے لیے طے پانے والے انتظامات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے اور آئندہ اقدامات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
چینی وزارت تجارت کے مطابق تجارتی جنگ بندی میں توسیع 10 جنوری تک کی گئی ہے، جس سے کمپنیوں کے درمیان تعاون اور جاری مذاکرات کے لیے نسبتاً مستحکم اور قابل پیش گوئی پالیسی ماحول میسر آئے گا۔ یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رواں سال ہونے والی دوسری سربراہی ملاقات کے اہم نتائج میں شامل تھا۔
دونوں ممالک کی جانب سے قائم کیے جانے والے تجارتی کونسل کے تحت ابتدائی اقدامات میں 30 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر باہمی ٹیرف میں کمی پر بات چیت شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق چین مکئی، گندم، ڈیری مصنوعات اور گوشت سمیت مختلف امریکی زرعی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم سویابین اس فہرست میں شامل نہیں۔ چین 2027 اور 2028 میں امریکا سے سالانہ ایک کروڑ ٹن کوئلہ درآمد کرے گا۔
دونوں ممالک مصنوعی ذہانت سے متعلق واقعات پر رابطے کا طریقہ کار بھی قائم کریں گے۔ چین امریکی سرمایہ رکھنے والے مالیاتی اداروں کو ملک میں کاروبار اور شاخیں کھولنے کی منظوری دینے کے امکانات کا جائزہ لے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں میں اضافے پر بھی بات چیت جاری رہے گی۔
























Comments