موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے کئے گئے وعدوں کو عملی نتائج میں تبدیل ہونا چاہیے، وفاقی وزیرخزانہ
- ادارہ جاتی تقسیم اور سرمایہ کاری کے قابل اور مالی معاونت حاصل کرنے کے قابل منصوبوں کی کمی بدستور موثر عملدرآمد میں رکاوٹ ہے۔ محمد اورنگزیب
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کےلئے کئے جانے والے وعدوں کو عوام اور کمیونٹیز کے لیے ٹھوس اور عملی نتائج میں تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پرنیویارک میں کلائمیٹ امپلی منٹیشن برج کے حوالے سے منعقدہ اعلی سطح کی تقریب سے خطاب کرتے کہی۔
جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے نیویارک میں اپنے سرکاری دورے کے چوتھے روز بھی اعلیٰ سطح ملاقاتوں اور سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں پاکستان کے اعلیٰ سطح وفد کا حصہ ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کےلئے کئے جانے والے وعدوں پر موثر عملدرآمد کے لیے تین بنیادی تقاضوں کی نشاندہی کی جن میں مضبوط پالیسی فریم ورک، مالی وسائل تک رسائی اور ملکی سطح پر منصوبوں کو عملی شکل دینے کی صلاحیت شامل ہیں۔
انہوں نے موسمیاتی پالیسی کے حوالے سے پاکستان کی پیشرفت اور ملکی وسائل، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، کیپٹل مارکیٹس اور موسمیاتی فنڈز کے ذریعے مالی وسائل متحرک کرنے کی کوششوں پربھی روشنی ڈالی۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ادارہ جاتی تقسیم اور سرمایہ کاری کے قابل اور مالی معاونت حاصل کرنے کے قابل منصوبوں کی کمی بدستور موثر عملدرآمد میں رکاوٹ ہے۔
2022 میں آنے والے سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاونت کے وعدوں کے باوجود مناسب منصوبوں کی عدم موجودگی کے باعث بعض مالی وسائل استعمال نہیں ہو سکے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے برج میں پاکستان کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ ایسے عملی فیصلوں پر اتفاقِ رائے پیدا کریں جو اس اقدام کو محض مکالمے سے آگے بڑھا کر عملی اقدامات کی جانب لے جائیں۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق وعدوں کو ٹھوس منصوبوں اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ عوام اور مقامی برادریوں کو حقیقی اور عملی فوائد پہنچائے جا سکیں۔
























Comments