تیل کا عالمی بحران ڈاؤن اسٹریم شعبے میں منتقل
- جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی
تیل کے عالمی بحران کی صورتحال اب مختلف شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ خام تیل اب بھی مہنگا اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، لیکن بڑا دباؤ اب تیل کی پیداوار کے اگلے مرحلے میں، یعنی ڈیزل، ریفائننگ مارجنز اور ان ایندھنوں میں تیزی سے ظاہر ہو رہا ہے جو دراصل سامان، زراعت اور کارخانوں کو چلاتے ہیں۔
جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی، کیونکہ امریکا ایران تنازع کے جلد خاتمے کی امیدیں کمزور رہیں۔ اسی دوران خام تیل کی مارکیٹ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا شروع کردیا ہے۔ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ہے، عراق برآمدات میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ خلیجی خطے سے مزید خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرنے کے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں نے بعض اوقات خام تیل کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد دی ہے، اگرچہ جغرافیائی سیاسی خطرات اب بھی بلند ہیں۔
تاہم ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ کے لیے حالات کو معمول پر لانا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
عالمی ڈیزل سپلائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ ایران تنازع اور روسی ریفائننگ میں رکاوٹوں نے دو اہم برآمدی خطوں سے سپلائی کم کردی ہے۔ ذخائر کم ہوگئے ہیں، ریفائنریوں کی بندش نے قلت میں مزید اضافہ کردیا ہے، اور ڈیزل کے ریفائننگ مارجنز ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
اب خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان فرق نمایاں ہوچکا ہے۔ خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کا فرق تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ یورپ میں حال ہی میں ڈیزل برینٹ کے مقابلے میں تقریباً 95 ڈالر فی بیرل پریمیم پر فروخت ہو رہا تھا، جبکہ امریکا میں ڈیزل کا پریمیم حال ہی میں ریکارڈ 119 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گیا۔ ایشیا میں بھی ڈیزل کے مارجنز ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ ٹرکوں، زراعت اور تعمیرات کو چلانے والا ایندھن خام تیل نہیں بلکہ ڈیزل ہے۔ ڈیزل کی بلند قیمتیں فوری طور پر مال برداری، زرعی اور صنعتی اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں، جو بالآخر صارفین کی قیمتوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ برینٹ کی قیمت میں کمی مہنگائی کے دباؤ میں فوری ریلیف نہیں لا سکتی۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، زراعت اور صنعت میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اگر عالمی ڈیزل مارجنز بلند سطح پر برقرار رہے تو خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملکی لاگت کا دباؤ زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
سپلائی کا یہ مسئلہ خام تیل کی قلت کے مقابلے میں حل کرنا بھی زیادہ مشکل ہے۔ جہاں تیل پیدا کرنے والے اضافی گنجائش موجود ہونے کی صورت میں کارگو کا رخ تبدیل کرسکتے ہیں یا مزید تیل پمپ کرسکتے ہیں، وہیں ریفائننگ کی گنجائش کہیں کم لچکدار ہے۔ متاثرہ ریفائنریوں کو مکمل پیداوار پر واپس آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ موجودہ ریفائنریاں بھی پیداوار میں ایک محدود حد تک ہی اضافہ کرسکتی ہیں۔
اور ذخائر بھی زیادہ اطمینان فراہم نہیں کر رہے۔ امریکا میں ڈیزل کے ذخائر سال کے اس وقت کے معمول کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر کم ہیں، جبکہ یورپ میں بھی ذخائر تاریخی اوسط سے کم ہیں۔ صنعتی اندازوں کے مطابق ڈیزل کی سخت سپلائی کی صورتحال 2027 تک برقرار رہ سکتی ہے۔
چین نے ڈیزل سمیت ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرکے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ بلند ریفائننگ مارجنز سے دیگر خطوں کی ریفائنریوں کو بھی پیداوار زیادہ سے زیادہ کرنے کی ترغیب ملنی چاہیے۔ تاہم اگر جغرافیائی سیاسی رکاوٹیں جاری رہیں تو ان دونوں اقدامات میں سے کوئی بھی فوری حل فراہم نہیں کرتا۔
بحران کے آغاز میں بنیادی سوال یہ تھا کہ خام تیل کی سپلائی میں کتنی کمی واقع ہوگی اور برینٹ کی قیمت کتنی بلند ہوسکتی ہے۔ اب خام تیل کی کچھ سپلائی کے بہاؤ میں تبدیلی آرہی ہے۔ تاہم ڈاؤن اسٹریم نظام نے تقریباً اتنی تیزی سے خود کو حالات کے مطابق نہیں ڈھالا۔
لہٰذا توانائی کے بحران کا اگلا مرحلہ اس بات سے کم متعلق ہوسکتا ہے کہ برینٹ کی قیمت 100 ڈالر یا 110 ڈالر فی بیرل ہے، اور اس بات سے زیادہ متعلق ہوسکتا ہے کہ ریفائنرز ان بیرل کو ان ایندھنوں میں تبدیل کرنے کے لیے کتنی قیمت وصول کر رہے ہیں جنہیں عالمی معیشت حقیقتاً استعمال کرتی ہے۔
تیل کا بحران ختم نہیں ہوا۔ یہ صرف ڈاؤن اسٹریم مرحلے میں منتقل ہوگیا ہے۔
























Comments