ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل کو آئی پی او کیلئے منظوری مل گئی
- ایس ای سی پی کی جانب سے 9 ستمبر کو دی گئی منظوری سے قبل اسٹاک ایکسچینج نے 7 ستمبر کو منظوری دی تھی
پنجاب میں قائم آم، ترش پھلوں اور آلو کے برآمد کنندہ ادارے ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل لمیٹڈ کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پر ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے 3 کروڑ عام حصص کے اجراء، گردش اور پراسپیکٹس کی اشاعت کی منظوری مل گئی ہے۔
بیان کے مطابق ایس ای سی پی کی جانب سے 9 ستمبر کو دی گئی منظوری سے قبل اسٹاک ایکسچینج نے 7 ستمبر کو منظوری دی تھی۔ بک بلڈنگ 21 اور 22 ستمبر کو ہوگی، جبکہ عام عوام کے لیے حصص کی سبسکرپشن 28 اور 29 ستمبر کو ہوگی۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز لمیٹڈ اور گروتھ سیکیورٹیز لمیٹڈ اس اجرا کے مشترکہ لیڈ منیجرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل لمیٹڈ 3 کروڑ عام حصص پیش کرے گی، جو آئی پی او کے بعد کمپنی کے ادا شدہ سرمائے کا 32.01 فیصد بنتے ہیں، جبکہ فی حصص فلور قیمت 40 روپے مقرر کی گئی ہے۔ بک بلڈنگ کے عمل کے ذریعے اسٹرائیک قیمت میں 60 فیصد تک اضافہ ہو کر 64 روپے فی حصص تک پہنچ سکتی ہے، جس سے کمپنی 1.20 ارب روپے سے 1.92 ارب روپے تک حاصل کرسکے گی۔
پیشکش کے ڈھانچے کے تحت 2 کروڑ 25 لاکھ حصص، جو اجرا کے 75 فیصد کے برابر ہیں، بک بلڈنگ کے ذریعے پیش کیے جائیں گے، جبکہ باقی 75 لاکھ حصص عام عوام کو پیش کیے جائیں گے۔
کمپنی نے کہا کہ آئی پی او سے کمپنی کی ورکنگ کیپیٹل کی پوزیشن میں نمایاں بہتری کی توقع ہے، جس سے اس کی ترقی میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگی۔ اضافی سرمایہ موسمی بنیادوں پر زیادہ خریداری، پروسیسنگ کی زیادہ گنجائش اور بین الاقوامی سطح پر موجود طلب کو برآمدی آمدنی میں تبدیل کرنے کی بہتر صلاحیت میں معاونت کرے گا۔
کمپنی نے مالی سال 2026 میں 40 لاکھ ڈالر کی برآمدی آمدنی حاصل کی تھی اور مالی سال 2027 میں برآمدی آمدنی تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس سے اس کا مارکیٹ شیئر ممکنہ طور پر 4 فیصد سے کچھ کم تک پہنچ سکتا ہے۔
سرگودھا میں قائم یہ کمپنی پہلے شاہین انٹرپرائزز کے نام سے کام کرتی تھی۔ کمپنی کو تقریباً تین دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے اور یہ 22 سے زائد ممالک کو کینو، آم، آلو اور دیگر زرعی پیداوار برآمد کرتی ہے۔
























Comments