نیپرا کا کے الیکٹرک کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری روکنے کا حکم
- نیپرا نے ایک بار پھر حکومت کی ریونیو بیسڈ یا کمرشل لوڈشیڈنگ پالیسی کو غیر قانونی قرار دیدیا
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایک بار پھر حکومت کی ریونیو بیسڈ یا کمرشل لوڈشیڈنگ پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کے الیکٹرک کو غیر اعلانیہ، غیر شیڈول اور ضرورت سے زیادہ بجلی کی بندش فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت کردی ہے، بالخصوص ان صارفین کے لیے جو باقاعدگی سے اپنے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں۔
نیپرا نے کے الیکٹرک کو بجلی چوری اور کمرشل نقصانات پر قابو پانے کے لیے فیڈر لیول لوڈشیڈنگ کے بجائے متبادل تکنیکی اور انتظامی اقدامات اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ ہدایات کراچی کے شہریوں کی جانب سے غیر اعلانیہ، طویل اور امتیازی لوڈشیڈنگ کی مسلسل شکایات کے بعد جاری کی گئیں۔ نیپرا کے مطابق یہ شکایات انفرادی واقعات نہیں بلکہ بجلی کی طلب و رسد کے انتظام میں ایک نظامی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ریگولیٹر کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ کے الیکٹرک اپنی جانب سے وضع کردہ ای ٹی اینڈ سی نقصانات پالیسی کے تحت لوڈشیڈنگ کررہی تھی، جسے نیپرا ایکٹ، متعلقہ قوانین یا کمپنی کے لائسنس میں کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں۔
نیپرا نے کہا کہ کسی فیڈر پر بجلی چوری، کمرشل ڈیفالٹ یا زیادہ نقصانات کی شرح کو اس فیڈر سے بجلی لینے والے باقاعدہ بل ادا کرنے والے صارفین کی بجلی بند کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنی کی بجلی کی خدمات غیر امتیازی بنیادوں پر فراہم کرنا قانونی ذمہ داری ہے۔
نیپرا کے مطابق بجلی کی فراہمی صرف تکنیکی رکاوٹ، سسٹم ایمرجنسی یا بجلی کی پیداوار میں حقیقی کمی جیسے قانونی طور پر تسلیم شدہ حالات میں محدود کی جاسکتی ہے۔ ریونیو یا ای ٹی اینڈ سی نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کو قانونی تحفظ حاصل نہیں۔
اتھارٹی نے یاد دلایا کہ اس سے قبل 4 اپریل 2024 کو بھی کے الیکٹرک پر اسی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر 50 ملین روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا، تاہم نیپرا کے مطابق کمپنی نے اپنی کارروائیوں میں خاطر خواہ بہتری نہیں لائی۔
نیپرا نے بتایا کہ کراچی میں طویل بجلی بندش سے پانی کی فراہمی، صحت کی سہولیات اور الیکٹرک بسوں کی سروسز بھی متاثر ہورہی ہیں، جبکہ شدید موسمی حالات کے دوران اس کے اثرات عوامی فلاح و بہبود کے لیے سنگین خطرات پیدا کررہے ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق اس عمل سے تقریباً 2.37 ملین صارفین متاثر ہوئے ہیں۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی کمرشل لوڈشیڈنگ اور طویل بجلی بندش کے منفی اثرات کی نشاندہی کی۔
نیپرا نے کے الیکٹرک کو بجلی چوری میں ملوث یا نادہندہ صارفین کے خلاف انفرادی کارروائی، اینٹی تھیفٹ مہم تیز کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے مقدمات چلانے کی ہدایت کی ہے۔
اتھارٹی نے زیادہ نقصانات والے علاقوں میں ایریل بنڈلڈ کیبلز (اے بی سی) نصب کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ کے الیکٹرک کو مرحلہ وار تنصیب کے لیے 30 دن میں وقت مقررہ منصوبہ جمع کرانے اور حکم جاری ہونے کے 30 دن کے اندر جامع تعمیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیپرا نے واضح کیا کہ بجلی چوری کا حل اجتماعی سزا نہیں بلکہ ہدفی کارروائی، ریونیو نقصانات کا حل بہتر بلنگ و وصولی اور تکنیکی نقصانات کا حل بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ہے۔
کے الیکٹرک کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی نے نیپرا کے حکم کا نوٹس لے لیا ہے اور اس کے مندرجات کا تفصیلی جائزہ لیا جارہا ہے۔ کمپنی مقررہ مدت میں اپنا جواب جمع کرائے گی اور ریگولیٹر کے ساتھ رابطے میں ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments