آبنائے ہرمز میں خلل کے باعث پاکستانی ریفائنری سینرجیکو نے امریکی خام تیل کی درآمدات بڑھا دیں
- کمپنی امریکی خام تیل کی خریداری بڑھانے کے ساتھ وٹول اور دیگر سپلائرز سے اسپاٹ مارکیٹ میں خریداری پر بھی غور کررہی ہے
پاکستان کی سب سے بڑی ریفائنری سینرجیکو امریکا سے خام تیل کی خریداری بڑھا رہی ہے، کیونکہ ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے خلیجی راستوں پر پاکستان کے انحصار کو نمایاں کردیا ہے اور اسلام آباد توانائی کے ذرائع میں تنوع لانا چاہتا ہے۔
پاکستان امریکا سے درآمدات بڑھانے کا بھی خواہاں ہے، تاکہ تجارتی سرپلس کم کرنے کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد تجارتی محصولات میں کمی حاصل کی جاسکے۔
سینرجیکو نے پہلی بار گزشتہ سال امریکی خام تیل خریدا تھا۔ کمپنی کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی قیمت، قابلِ اعتماد فراہمی اور سپلائی کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے وٹول اور دیگر سپلائرز کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے علاوہ اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری پر بھی غور کررہی ہے۔
اسامہ قریشی کے مطابق سینرجیکو نے نو ماہ کے دوران تقریباً 81 لاکھ بیرل امریکی خام تیل درآمد کیا، جس میں مالی سال 2026 کے دوران درآمد کیے گئے 71 لاکھ بیرل شامل ہیں، جن کی مالیت تقریباً 75 کروڑ ڈالر رہی۔
مرکزی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق اسی مالی سال پاکستان کی امریکا سے درآمدات کی ادائیگیاں 91 کروڑ 40 لاکھ ڈالر بڑھ کر 3.27 ارب ڈالر ہوگئیں، یعنی سینرجیکو کی خریداری اس اضافے کا تقریباً 80 فیصد بنتی ہے۔
اسامہ قریشی نے کہا کہ اگر پاکستان کی مجوزہ ایکسِم بینک ٹریڈ فنانس سہولت سینرجیکو کو بھی فراہم کی گئی تو کمپنی امریکی خام تیل کی خریداری مزید بڑھا سکتی ہے۔ اس سہولت کے تحت پاکستانی خریدار امریکی برآمد کنندگان کو ادائیگی تین سال تک مؤخر کرسکیں گے۔
پاکستان عموماً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل درآمد کرتا ہے، جبکہ جنگ سے قبل اس کے تقریباً 90 فیصد تیل اور ایل این جی کی درآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں۔
سینرجیکو کراچی کے محدود بندرگاہی نظام سے باہر بڑے ٹینکرز کے ذریعے ریفائنڈ مصنوعات کی درآمد و برآمد کے لیے اپنے اسٹوریج نیٹ ورک سے منسلک دوسرے آف شور مورنگ کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ یہ منصوبہ 1.2 ارب ڈالر کی ریفائنری اپ گریڈیشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد یورو فائیو معیار حاصل کرنا، فرنس آئل کی پیداوار کم کرنا اور پیداواری صلاحیت تقریباً 2 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانا ہے۔
کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے سربراہِ تحقیق فواد بصیر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے ایک ہی سپلائی روٹ پر انحصار کے خطرات واضح کردیئے ہیں۔ امریکی خام تیل کی درآمد کے لیے بڑے خام تیل بردار جہاز استعمال کرنے سے مال برداری کے اخراجات 25 سے 30 فیصد تک کم ہوسکتے ہیں، جبکہ دوسرا سنگل پوائنٹ مورنگ جہازوں کی آمدورفت کا وقت بھی کم کرے گا۔
























Comments