آرٹسٹک ملنرز پورٹ قاسم کی 400 ایکڑ پر محیط گارمنٹس سٹی میں 18 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرے گی
- منصوبے کے پہلے مرحلے میں 250 ایکڑ رقبہ شامل ہوگا جس میں سے 35 فیصد حصہ اندرونی سڑکوں، یوٹیلیٹیز اور گرین ایریاز کے لیے مختص کیا جائے گا
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے پیر کو کہا ہے کہ پاکستان ٹیکسٹائل برآمدات کو بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے پورٹ قاسم پر 400 ایکڑ رقبے پر گارمنٹس سٹی قائم کرے گا۔
ایک بیان کے مطابق منصوبے کے تحت پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ڈینم مینوفیکچرنگ کمپنی آرٹسٹک ملرز عمودی انضمام (ورٹیکل انٹیگریشن) اور سبزٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتے ہوئے 18 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری سے مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرے گی۔
ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ کلسٹر اعلیٰ ویلیو والے ملبوسات کی تیاری پر توجہ مرکوز کرے گا اور نجی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔
منصوبے کے مطابق پہلے مرحلے میں 250 ایکڑ رقبہ مختص کیا جائے گا جس میں سے 35 فیصد حصہ اندرونی سڑکوں، یوٹیلیٹیز اور گرین ایریاز کے لیے مختص ہوگا۔ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کرنے کی تجویز ہے۔
مجوزہ کمرشل ڈھانچے میں پانچ، پانچ ایکڑ پر مشتمل 32 صنعتی پلاٹس شامل ہوں گے تاہم مزید سرمایہ کاروں اور مینوفیکچرنگ یونٹس کو جگہ دینے کے لیے پلاٹس کا حجم کم کرکے دو یا تین ایکڑ کیا جاسکتا ہے۔
پورٹ قاسم اتھارٹی انفرااسٹرکچر اور یوٹیلیٹیز فراہم کرے گی۔ ہر صنعتی یونٹ کو روزانہ 4 لاکھ گیلن تک پانی، 2 میگاواٹ آن گرڈ بجلی اور 8 پاؤنڈ فی مربع انچ (پی ایس آئی) دباؤ پر روزانہ 23,100 پاؤنڈ صنعتی گیس فراہم کی جائے گی جو 10 ٹن بھاپ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگی۔
مجموعی منصوبے کیلئے یومیہ 1 کروڑ 30 لاکھ گیلن پانی، 64 میگاواٹ آن گرڈ بجلی اور روزانہ 7 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ صنعتی گیس کی یوٹیلیٹی صلاحیت مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ منصوبے میں نجی شعبے کی شمولیت کلیدی حیثیت رکھے گی۔
منصوبے میں برآمد کنندگان کے لیے ون ونڈو سہولت بھی قائم کی جائے گی جس کے تحت برآمدی امور کی تیز تر کارروائی، خصوصی کسٹمز ڈیسک اور مختص ٹرانسپورٹ کوریڈورز فراہم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں پیش کیے گئے تخمینوں کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں 138,125 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ سالانہ برآمدات کا حجم 2.2 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ منصوبے کا مقصد گارمنٹس کی اوسط برآمدی مالیت کو تقریباً 8 ڈالر فی پیس تک بڑھانا بھی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے صنعتی شعبے اور برآمدی صلاحیت کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے جس کے تحت مجوزہ ملبوسات زون میں بندرگاہی انفرااسٹرکچر، یوٹیلیٹیز، کسٹمز سہولیات اور نجی سرمایہ کاری کو یکجا کیا جائے گا۔
























Comments