BR100 Increased By (0.06%)
BR30 Decreased By (-0.12%)
KSE100 Increased By (0.2%)
KSE30 Increased By (0.18%)
BAFL 58.15 Decreased By ▼ -1.58 (-2.65%)
BIPL 27.10 Increased By ▲ 0.10 (0.37%)
BOP 34.23 Increased By ▲ 0.12 (0.35%)
CNERGY 12.82 Decreased By ▼ -0.02 (-0.16%)
DFML 18.73 Increased By ▲ 0.48 (2.63%)
DGKC 212.75 Decreased By ▼ -0.27 (-0.13%)
FABL 99.70 Increased By ▲ 0.71 (0.72%)
FCCL 57.30 Decreased By ▼ -0.36 (-0.62%)
FFL 16.27 Increased By ▲ 0.07 (0.43%)
GGL 23.97 Increased By ▲ 0.17 (0.71%)
HBL 336.01 Increased By ▲ 2.30 (0.69%)
HUBC 213.80 Increased By ▲ 2.37 (1.12%)
HUMNL 10.60 Increased By ▲ 0.08 (0.76%)
KEL 7.44 Decreased By ▼ -0.04 (-0.53%)
LOTCHEM 27.84 Decreased By ▼ -0.15 (-0.54%)
MLCF 100.09 Decreased By ▼ -0.56 (-0.56%)
OGDC 318.65 Decreased By ▼ -1.64 (-0.51%)
PAEL 43.09 Decreased By ▼ -0.03 (-0.07%)
PIBTL 16.69 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
PIOC 271.90 Increased By ▲ 0.17 (0.06%)
PPL 228.89 Increased By ▲ 0.05 (0.02%)
PRL 71.67 Increased By ▲ 0.65 (0.92%)
SNGP 102.49 Increased By ▲ 0.27 (0.26%)
SSGC 26.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.04 (0.46%)
TPLP 15.38 Increased By ▲ 0.27 (1.79%)
TRG 59.95 Increased By ▲ 0.11 (0.18%)
UNITY 12.24 Increased By ▲ 0.19 (1.58%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
کاروبار اور معیشت

حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار، ہڑتال جاری

  • ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری اور تحریری یقین دہانی تک ملک گیر ہڑتال جاری رہے گی
شائع اپ ڈیٹ

حکومت کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت کے دعوؤں کے باوجود آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ دو روزہ مذاکرات کے بعد بھی ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری اور تحریری یقین دہانی تک ملک گیر ہڑتال جاری رہے گی۔

منگل کو وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کا تفصیلی اجلاس ہوا، جس میں کسٹمز حکام اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں پر مشتمل جوائنٹ مانیٹرنگ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں کسٹمز سے متعلق ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل کے فوری اور طویل المدتی حل پر بھی غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے بندرگاہوں اور میری ٹائم امور سے متعلق معاملات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے حکام کو ہدایت کی کہ وزن تولنے والے اسٹیشنز (وی اسٹیشنز) سے متعلق ٹرانسپورٹرز کی شکایات فوری طور پر دور کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام موٹرویز پر وزن کرنے کے جدید اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے جہاں انسانی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہوگی۔

اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر حکام نے ٹرانسپورٹرز کی تجاویز پر اپنی سفارشات پیش کیں، جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)، پورٹ اینڈ شپنگ حکام، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور موٹروے پولیس سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایکسل لوڈ کے معاملے پر ٹرانسپورٹرز نے وفاقی وزیر کی اس تجویز کی حمایت کی کہ ملک بھر میں یکساں پالیسی کے تحت اس مسئلے کو اس کے بنیادی مقام پر ہی کنٹرول کیا جائے۔ اجلاس میں وزارت پیٹرولیم کے اعلیٰ حکام اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان بھی پانچ گھنٹے تک تفصیلی مذاکرات ہوئے۔

دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے حکومتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حکومت جب تک مطالبات تسلیم کرکے تحریری ضمانت فراہم نہیں کرتی، ہڑتال ختم نہیں ہوگی۔

ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات میں ملک بھر میں ایکسل لوڈ قوانین کا یکساں نفاذ، 10 پہیوں والی گاڑیوں کو 35 ٹن وزن لے جانے کی اجازت، ڈیزل کی قیمتوں کا ماہانہ تعین، ٹول ٹیکس میں کمی اور ودہولڈنگ ٹیکس میں ریلیف شامل ہیں۔

ادھر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) اور پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے خبردار کیا ہے کہ پانچویں روز میں داخل ہونے والی ہڑتال سے خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت، خام مال کی ترسیل میں رکاوٹ، صنعتی پیداوار، ایندھن کی فراہمی، ملکی تجارت اور برآمدات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف