حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار، ہڑتال جاری
- ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری اور تحریری یقین دہانی تک ملک گیر ہڑتال جاری رہے گی
حکومت کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت کے دعوؤں کے باوجود آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ دو روزہ مذاکرات کے بعد بھی ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری اور تحریری یقین دہانی تک ملک گیر ہڑتال جاری رہے گی۔
منگل کو وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کا تفصیلی اجلاس ہوا، جس میں کسٹمز حکام اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں پر مشتمل جوائنٹ مانیٹرنگ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں کسٹمز سے متعلق ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل کے فوری اور طویل المدتی حل پر بھی غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے بندرگاہوں اور میری ٹائم امور سے متعلق معاملات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے حکام کو ہدایت کی کہ وزن تولنے والے اسٹیشنز (وی اسٹیشنز) سے متعلق ٹرانسپورٹرز کی شکایات فوری طور پر دور کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام موٹرویز پر وزن کرنے کے جدید اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے جہاں انسانی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہوگی۔
اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر حکام نے ٹرانسپورٹرز کی تجاویز پر اپنی سفارشات پیش کیں، جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)، پورٹ اینڈ شپنگ حکام، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور موٹروے پولیس سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایکسل لوڈ کے معاملے پر ٹرانسپورٹرز نے وفاقی وزیر کی اس تجویز کی حمایت کی کہ ملک بھر میں یکساں پالیسی کے تحت اس مسئلے کو اس کے بنیادی مقام پر ہی کنٹرول کیا جائے۔ اجلاس میں وزارت پیٹرولیم کے اعلیٰ حکام اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان بھی پانچ گھنٹے تک تفصیلی مذاکرات ہوئے۔
دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے حکومتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حکومت جب تک مطالبات تسلیم کرکے تحریری ضمانت فراہم نہیں کرتی، ہڑتال ختم نہیں ہوگی۔
ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات میں ملک بھر میں ایکسل لوڈ قوانین کا یکساں نفاذ، 10 پہیوں والی گاڑیوں کو 35 ٹن وزن لے جانے کی اجازت، ڈیزل کی قیمتوں کا ماہانہ تعین، ٹول ٹیکس میں کمی اور ودہولڈنگ ٹیکس میں ریلیف شامل ہیں۔
ادھر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) اور پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے خبردار کیا ہے کہ پانچویں روز میں داخل ہونے والی ہڑتال سے خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت، خام مال کی ترسیل میں رکاوٹ، صنعتی پیداوار، ایندھن کی فراہمی، ملکی تجارت اور برآمدات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments