ڈسکوز کی کارکردگی میں بہتری کا دعویٰ مسترد، نقصانات صرف بجلی چوری والے علاقوں پر منتقل کیے گئے، نیپرا
- سی پی پی اے-جی کی جون 2026 کیلئے 1.20 روپے فی یونٹ کے مثبت فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی درخواست
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بدھ کو مشاہدہ کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کارکردگی میں خصوصاً نقصانات میں کمی کے حوالے سے کوئی حقیقی بہتری نہیں آئی۔ نیپرا نے الزام عائد کیا کہ نقصانات میں کمی کے بجائے انہیں صرف زیادہ بجلی چوری والے علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔
یہ مشاہدہ نیپرا کے ممبر (ڈویلپمنٹ) انجینئر مقصود انور خان نے جون 2026 کے لیے فیول چارجز ایڈجسمنٹ (ایف سی اے) پر عوامی سماعت کے دوران کیا۔
یہ ریمارکس پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کے چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) نوید قیصر کے اس دعوے کے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ڈسکوز کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔
سماعت کی صدارت نیپرا چیئرمین وسیم مختار نے جبکہ نیپرا کے ممبر (ٹیرف اینڈ فنانس) امینہ احمد اور ممبر (ڈیولپمنٹ) مقصود انور خان بھی شریک تھے۔ پاور ڈویژن کے حکام جن میں سی پی پی اے-جی، آئی ایس ایم او اور پی پی ایم سی کے نمائندگان بھی شامل تھے نے بھی سماعت میں شرکت کی۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (سی پی پی اے-جی) نے جون 2026 کیلئے 1.20 روپے فی یونٹ کے مثبت فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی درخواست کی ہے جس کے ذریعے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کے صارفین سے مزید 15.68 ارب روپے وصول کیے جائیں گے۔
صارفین جولائی 2026 میں پہلے ہی 0.34 روپے فی یونٹ کا مثبت ایف سی اے ادا کر چکے ہیں۔ نئی ایڈجسٹمنٹ کے بعد خالص اضافہ 0.86 روپے فی یونٹ ہوگا جو اگست 2026 کے بجلی بلوں میں وصول کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران پی پی ایم سی کے چیف فنانشل آفیسر نے جون 2026 میں بجلی کی کھپت میں 3.3 فیصد کمی کی وجہ عید تعطیلات اور گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں نسبتاً کم درجہ حرارت کو قرار دیا۔
تاہم نیپرا کے ایک رکن مصود انور خان نے ان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں اس مؤقف کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ طویل بجلی کی بندش کی وجہ سے جون میں احتجاج ہوئے۔ ڈسکوز نے جان بوجھ کر بجلی کی کھپت کو کم ظاہر کیا، ورنہ درجہ حرارت کے رجحانات میں اتنی بڑی گراوٹ کا جواز نہیں بنتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا تعلق ریکوری سے ہے وہاں 22 گھنٹے تک کی طویل بندش دیکھی گئی جس کے نتیجے میں عوامی احتجاجات ہوئے۔
ایک سوال کے جواب میں پی پی ایم سی کے چیف فنانشل آفیسر نے بتایا کہ پاور ڈویژن بجلی کی کھپت بڑھانے کے لیے سستی بجلی کا ایک اور پیکیج تیار کررہا ہے جسے متعلقہ فورمز سے منظوری کے بعد نیپرا کو پیش کیا جائے گا۔
اتھارٹی نے ترسیلی نظام کی رکاوٹوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا جن کے باعث جنوبی خطے میں پیدا ہونے والی سستی بجلی مکمل طور پر شمالی علاقوں تک منتقل نہیں ہو پا رہی۔ اس معاملے پر نیشنل گرڈ کمپنی اور آئی ایس ایم او کے حکام کے درمیان مختلف آرا بھی سامنے آئیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں چیف فنانشل آفیسر نے اعتراف کیا کہ دو بڑے منصوبے 969 میگاواٹ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 747 میگاواٹ گدو کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹ غفلت کے باعث بند رہے جس پر ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے۔
اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) کے حوالے سے سی ایف او نے اندازہ لگایا کہ اس کا اثر 17 سے 18 ارب روپے ہوگا جو تقریباً 0.70 روپے فی یونٹ بنتا ہے۔ تاہم نیپرا کے کیس افسر نے نشاندہی کی کہ ڈسکوز نے 23 ارب روپے کی زیادہ ایڈجسٹمنٹ طلب کی ہے جس پر سی ایف او نے کہا کہ پی پی ایم سی اور سی پی پی اے-جی کے اعداد و شمار میں ہم آہنگی ہے جبکہ ڈسکوز کے ڈیٹا کی تصدیق ضروری ہے۔
سماعت کے دوران ٹیکسٹائل شعبے کے نمائندے عامر شیخ نے خبردار کیا کہ کیو ٹی اے اور ایف سی اے کے مشترکہ اثرات سے صنعتی بجلی کے نرخوں میں 2.5 سے 3 روپے فی یونٹ اضافہ ہوسکتا ہے جو تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت عالمی عوامل بشمول خلیجی تنازع کے باعث بڑھنے والے نرخوں کی مخالفت نہیں کرتی، تاہم اصل لاگت میں اضافے کے عوامل کو شفاف انداز میں پیش کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
تاہم پی پی ایم سی کے سی ایف او نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ایڈجسٹمنٹس کے باوجود اگست میں صنعتی بجلی کے نرخ امریکا۔ایران تنازع سے قبل کی سطح سے کم رہیں گے۔
ایک اور شریک رکن ریحان جاوید نے تجویز دی کہ اضافی بجلی کھپت پیکیج کو صنعتی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ازسرِنو ترتیب دیا جائے جبکہ اضافی یونٹس کو الگ رکھا جائے تاکہ کراس سبسڈی کا عمل روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ 2003 میں پاکستان میں بجلی کا ٹیرف تقریباً 7 امریکی سینٹ فی یونٹ تھا حالانکہ اس وقت بجلی کا نظام بڑی حد تک فرنس آئل اور ڈیزل سے پیداوار پر انحصار کرتا تھا جبکہ آج کے کئی جدید اور زیادہ مؤثر پاور پلانٹس اس وقت فعال بھی نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ جدید اور مؤثر بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود صارفین آج بھی دو دہائیاں قبل کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ٹیرف ادا کررہے ہیں۔ اس صورتحال سے یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا کارکردگی میں بہتری کے دعوے واقعی صارفین کے لیے کم قیمتوں کی صورت میں سامنے آئے ہیں یا نہیں۔
کے سی سی آئی کی نمائندگی کرنے والے تنویر بیری نے سوال اٹھایا کہ فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) جیسے مہنگے ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار میں اضافہ کیوں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ غیر منصوبہ بند بندشوں اور مہنگے ایندھن پر زیادہ انحصار کے باعث فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گیس سے بجلی کی پیداوار 2025 میں 968 گیگاواٹ آور سے کم ہو کر 2026 میں 867 گیگاواٹ آور رہ گئی جو تقریباً 10 فیصد کمی ہے۔
وسیم مختار جو زوم کے ذریعے اجلاس میں شریک تھے نے ترسیلی نظام کی رکاوٹوں اور انہیں دور کرنے کے متوقع وقت کے بارے میں وضاحت طلب کی۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ اسٹارٹ اپ موڈ میں چلنے والے پاور پلانٹس کے مالی اثرات کم کرنے کے طریقوں کی نشاندہی کے لیے ایک جامع مطالعہ کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026





















Comments