امریکا کی ایران پر حملے مؤخر کرنے کی خبر، تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئیں
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 7 ڈالر 10 سینٹ، یعنی 7.3 فیصد کمی کے بعد 89 ڈالر 68 سینٹ فی بیرل پر آ گئی
امریکہ کی جانب سے ہفتے کے اختتام پر ایران کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ اچانک روک دینے کے بعد پیر کو تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ اس پیش رفت سے سفارتی حل کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، جس سے کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 7 ڈالر 10 سینٹ یا 7.3 فیصد کمی کے بعد 89 ڈالر 68 سینٹ فی بیرل رہ گئی۔ کاروبار کے آغاز میں یہ مزید گر کر 87 ڈالر 55 سینٹ فی بیرل تک آ گئی تھی، جو 9.5 فیصد کمی کے برابر ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچرز 6 ڈالر 14 سینٹ یا 6.9 فیصد کمی کے بعد 83 ڈالر 18 سینٹ فی بیرل پر آ گئے، جبکہ ابتدائی کاروبار میں ان میں 8 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
دونوں معاہدے دن کے آغاز میں 20 جولائی کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔
گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، کیونکہ ایران سے متعلق کشیدگی بحیرۂ احمر تک پھیل گئی تھی، جس کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب کی باب المندب کے راستے ایشیا کو ہونے والی برآمدات بھی رکاوٹ کا شکار ہوئیں۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے فاکس نیوز سنڈے اور دیگر امریکی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو مزید موقع دینے کے لیے امریکی حملے عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے ایکسیوس سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان انتہائی سنجیدہ سطح پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو وہ ”سخت فوجی کارروائی“ کے لیے تیار ہیں۔
دن بھر تیل کی قیمتوں میں کمی کی رفتار کچھ سست پڑ گئی، حالانکہ اسی دوران سعودی فضائی دفاع نے عراق سے داغے گئے ڈرونز کو تباہ کر دیا، جبکہ یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مشرقی سعودی عرب کو ینبع کی اہم تیل برآمدی بندرگاہ سے ملانے والی خام تیل کی تنصیبات اور ترسیلی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
پی وی ایم کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا، ”منڈی مسلسل کسی اچھی خبر کی تلاش میں ہے، لیکن موجودہ صورتحال ایسی کوئی امید فراہم نہیں کر رہی۔“
انہوں نے کہا، ”فوجی حملوں میں وقفہ یقیناً مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ خطے سے جلد تیل کی روانی بحال ہو جائے گی۔ قیمتوں میں پائیدار کمی اسی صورت ممکن ہے جب بلند قیمتیں دوبارہ طلب کو متاثر کریں، محض غیر یقینی جنگ بندیوں سے نہیں۔“
جنگ بندی کے باوجود غیر یقینی صورتحال برقرار
ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان غیر رسمی جنگ بندی سے متعلق پیش رفت کے باعث آئندہ دنوں میں عالمی تیل مارکیٹ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہے، کیونکہ جنگ بندی کے باوجود تیل کی حقیقی ترسیل اب بھی محدود ہے۔
بروکریج فرم اسٹون ایکس میں توانائی منڈی کی حکمت عملی کے ڈائریکٹر الیکس ہوڈز نے کہا کہ جون کے وسط میں مختصر جنگ بندی کے باوجود بحری ترسیل کا حجم بدستور نمایاں حد تک کم ہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ سے برآمدات متاثر ہیں اور سعودی عرب کو بحیرۂ احمر کے راستے جانے والے کارگو نہر سویز کے ذریعے طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔
شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے کپلر کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے یومیہ 10 سے بھی کم تجارتی جہاز گزرے۔
ایس ای بی ریسرچ کے تجزیہ کار اولے ہوالبیے نے کہا، ”تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ معمول کے مطابق یومیہ تقریباً دو کروڑ بیرل خام تیل، کنڈینسیٹ اور دیگر مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں۔ سیاسی وقفہ فوری طور پر سمندر میں تیل کی اضافی مقدار نہیں لا سکتا۔“
دوسری جانب، یمن کے حوثیوں کے سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد اتوار کو باب المندب سے جہازوں کی آمدورفت بھی کم رہی، تاہم ایک تیسرا چینی سپر ٹینکر اس راستے سے گزرنے میں کامیاب رہا۔
ادھر دنیا کے دس بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل قازقستان نے روس کی بحیرۂ اسود میں واقع اپنی مرکزی برآمدی بندرگاہ پر ڈرون حملوں کے بعد یومیہ تیل کی پیداوار نصف سے بھی کم کر دی ہے۔
تاہم بعد ازاں قازقستان کی وزارتِ توانائی نے اعلان کیا کہ کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے بحیرۂ اسود میں واقع ٹرمینل پر تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔























Comments