برطانوی وزیراعظم برنہم کا توانائی پر ٹیکس میں کمی کا اعلان، وزرا کو مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کی ہدایت
- حکومت کے مطابق اس اقدام کے اخراجات اسٹارمر کے ڈیجیٹل شناختی کارڈ منصوبے کی منسوخی سے پورے کیے جائیں گے
برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم نے منگل کو اپنی کابینہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت عوام کے لیے ”مہنگائی کے بوجھ میں کمی لانے والی حکومت“ ثابت ہوگی۔ یہ اعلان انہوں نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے مکمل دن توانائی پر ٹیکس میں کمی کے فیصلے کے بعد کیا ہے۔
پیر کو کیئر اسٹارمر کی جگہ ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچنے والے برنہم نے گھریلو بجلی کے بلوں پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) ختم کرنے کا اعلان کیا، جو بطور وزیراعظم ان کا پہلا بڑا پالیسی فیصلہ ہے۔
تاہم اسٹارمر کے ایک قریبی حامی اور سابق وزیر، جنہیں برنہم نے کابینہ سے فارغ کر دیا، نے اس ٹیکس میں کمی کے لیے مالی وسائل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم کی پارٹی اتحاد کی اپیل شاید زیادہ مؤثر ثابت نہ ہو۔
حکومتی بیان کے مطابق یکم اکتوبر سے گھریلو بجلی کے بل وی اے ٹی سے مستثنیٰ ہوں گے، جس سے ایک اوسط گھرانے کو سالانہ تقریباً 45 پاؤنڈ (61 امریکی ڈالر) کی بچت ہوگی۔
میڈیا کی موجودگی میں کابینہ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برنہم نے وزرا سے کہا کہ عوام کو ”یہ احساس ہونا چاہیے کہ ریلیف آ رہا ہے۔“
انہوں نے کہا، ”ہمیں ایسی حکومت بننا ہوگا جو مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرے۔“
تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ”مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہوگا“ اور وعدہ کیا کہ حکومت ہر پالیسی کے ساتھ یہ بھی واضح کرے گی کہ اس کے اخراجات کیسے پورے کیے جائیں گے۔
حکومت کے مطابق اس ٹیکس میں کمی سے رواں مالی سال کے دوران سرکاری خزانے پر تقریباً 85 کروڑ پاؤنڈ (1.143 ارب امریکی ڈالر) کا بوجھ پڑے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے اخراجات کیئر اسٹارمر کے ڈیجیٹل شناختی کارڈ منصوبے کو منسوخ کر کے پورے کیے جائیں گے، جس پر ٹیکس دہندگان کے تقریباً 1.8 ارب پاؤنڈ خرچ ہونے کا تخمینہ تھا۔
تاہم سابق وزیر ڈیرن جونز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ پروگرام کے لیے پہلے ہی کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو آئندہ بجٹ میں واضح کرنا ہوگا کہ وہ اپنی نئی پالیسیوں کے اخراجات کہاں سے پورے کرے گی۔
لیبر ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے اسٹارمر پر اعتماد ختم ہونے کے بعد وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے والے برنہم نے کابینہ کے اجلاس میں ایک بار پھر یقین دہانی کرائی کہ حکومت ہر نئی پالیسی کے لیے مالی وسائل کا واضح بندوبست پیش کرے گی۔
برنہم اس وقت کرایوں پر کنٹرول اور بس کرایوں کی حد مقرر کرنے جیسے اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں۔
پیر کو ایک دہائی سے کچھ زیادہ عرصے میں برطانیہ کے ساتویں وزیراعظم بننے والے برنہم نے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر اپنی پہلی تقریر میں لیبر حکومت کو زیادہ بائیں بازو کی سمت لے جانے کا عندیہ دیا۔
انہوں نے ملک میں دوبارہ صنعتی ترقی، عوامی سہولیات پر سرکاری کنٹرول بڑھانے، مزید سرکاری رہائشی منصوبے تعمیر کرنے اور رواں سال کے آخر میں 10 سالہ قومی منصوبہ پیش کرنے کا وعدہ کیا۔
برنہم نے لندن کے بجائے دیگر شہروں اور علاقوں کو زیادہ اختیارات منتقل کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اگرچہ انہوں نے لیبر پارٹی میں دھڑے بندی ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم وزیراعظم بنتے ہی ان کے پہلے اقدامات میں اسٹارمر کے بیشتر حامیوں کو 23 رکنی کابینہ سے باہر کرنا بھی شامل تھا۔
ریچل ریوز کو وزارتِ خزانہ سے ہٹا کر جان ہیلی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، جبکہ ڈیوڈ لیمی نائب وزیراعظم کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔ برنہم نے اپنے قریبی ساتھیوں کو اہم مناصب دیتے ہوئے کابینہ میں وسیع ردوبدل کیا۔
ایڈ ملی بینڈ کو وزیر خارجہ، ویس اسٹریٹنگ کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا، جبکہ بائیں بازو کی نمایاں رہنما اینجلا رینر دوبارہ کابینہ کا حصہ بن گئیں۔
نئی کابینہ میں 12 خواتین اور 11 مرد شامل ہیں، تاہم حکومت کے دو اہم ترین عہدوں پر خواتین کی نمائندگی ختم ہو گئی ہے۔
چیلنجز
پیر کی مصروف دوپہر کے دوران وزیراعظم اینڈی برنہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سمیت متعدد عالمی رہنماؤں سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی۔
حکومت کے نسبتاً اعتدال پسند طرزِ حکمرانی پر کیئر اسٹارمر کے ناقد رہے برنہم، گریٹر مانچسٹر کے میئر کے طور پر نو سال خدمات انجام دینے کے بعد صرف چار ہفتے قبل ہی دوبارہ پارلیمنٹ میں واپس آئے ہیں۔
لیبر پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ کو امید ہے کہ برنہم کی عوام دوست اور سادہ شخصیت نائجل فراژ کی قیادت میں قائم تارکینِ وطن مخالف جماعت ریفارم یو کے کی بڑھتی مقبولیت کو آئندہ عام انتخابات، جو 2029 میں متوقع ہیں، سے قبل روکنے میں مدد دے گی۔
تاہم برنہم کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سست رفتار معیشت، حکومتی قرضوں کی بلند لاگت، فلاحی اخراجات میں مسلسل اضافہ اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد شامل ہیں۔
اس کے علاوہ امریکا۔ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن کے ساتھ غیر متوقع تعلقات بھی ان کی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
2001 سے 2017 تک رکنِ پارلیمنٹ رہنے والے برنہم کے پاس مالی معاملات میں زیادہ گنجائش نہیں، کیونکہ برطانیہ کو بلند عوامی قرضوں اور سخت مالیاتی قواعد کا سامنا ہے، جن کے تحت حکومتی اخراجات کو ٹیکس آمدن کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔
لیبر پارٹی میں تیزی سے قیادت سنبھالنے اور پارلیمنٹ میں جماعت کی واضح اکثریت کے باعث وزیراعظم بننے والے برنہم نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اپنے اہداف کس عملی منصوبے کے ذریعے حاصل کریں گے۔
دوسری جانب ریفارم یو کے کے سربراہ نائجل فراج نے برنہم کے عوامی مینڈیٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے فوری عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔























Comments