وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے گفتگو، تحمل سے کام لینے پر زور، امن کے لیے پاکستان کے کردار کا اعادہ
- وزیراعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو میں تمام فریقوں پر تحمل سے کام لینے پر زور دیتے ہوئے علاقائی امن کے تحفظ کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ خطے میں استحکام کے لیے مکالمے کے فروغ اور امن کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو بھی دہرایا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ایران اور دیگر تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو گزشتہ چند ماہ کے دوران حاصل ہونے والے امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہو۔
وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے خطے اور اس سے باہر باہمی مفاہمت، احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک دیرپا فریم ورک قرار دیا۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صدر پزشکیان کو یقین دلایا کہ پاکستان مکالمے کے فروغ اور امن و استحکام برقرار رکھنے کی تمام کوششوں میں دیانت دار اور مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔
صدر پزشکیان نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ پاکستانی شخصیات کی جانب سے مرحوم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے علاقائی امن کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی تعمیری حمایت اور مخلصانہ کوششوں کو بھی سراہا۔
دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ صدر پزشکیان کے دورۂ اسلام آباد کے دوران ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فالو اپ اقدامات میں تیزی لانے پر اتفاق کیا۔
























Comments