پی آئی اے کے نئے سی ای او کیلئے سابق ایتھوپین ایئرلائنز چیف شارٹ لسٹ
- انتظامیہ اتوار تک تقرری کا باضابطہ اعلان کرنا چاہتی ہے، رپورٹ
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اپنے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے عہدے کے لیے ایتھوپین ایئرلائنز گروپ کے سابق سربراہ ٹیوولڈے گیبریمریم کو شارٹ لسٹ کر لیا ہے۔
بلوم برگ نے اس معاملے سے باخبر ایک ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حال ہی میں نجکاری کی گئی پی آئی اے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے نام کا باضابطہ اعلان اتوار تک کرنا چاہتی ہے، تاہم اس سے قبل ضروری قانونی اور انتظامی مراحل کی تکمیل ابھی باقی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیوولڈے گیبریمریم کی بطور سی ای او تقرری عارف حبیب کی قیادت میں قائم کنسورشیم کی پی آئی اے کی بحالی کی کوششوں کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیوولڈے گیبریمریم کی قیادت میں ایتھوپین ایئرلائنز افریقہ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی بن کر ابھری جس نے ادیس ابابا میں قائم اپنے مرکزی ٹرانزٹ حب کے ذریعے پورے براعظم کے مختلف شہروں کو آپس میں مربوط کردیا۔
پی آئی اے ایک طویل اور پیچیدہ نجکاری کے عمل سے گزری ہے جس کا مقصد حکومت کی جانب سے اکثریتی حصص کی فروخت اور خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
گزشتہ سال عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم کامیاب بولی دہندہ کے طور پر سامنے آیا جس نے پی آئی اے میں 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی پیشکش کی جو حکومت کی مقرر کردہ بنیادی قیمت سے 35 فیصد زیادہ تھی اور ساتھ ہی مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے مزید 80 ارب روپے مختص کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
اپریل 2026 تک پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے شیئر ہولڈرز نے باضابطہ طور پر 75 فیصد حصص کی نجکاری کی منظوری دے دی تھی۔ اس کے فوراً بعد 30 اپریل 2026 کو عارف حبیب کی قیادت والے کنسورشیم نے باقی ماندہ 25 فیصد حصص حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی کی جس سے قومی ایئرلائن کی مکمل نجکاری کی راہ ہموار ہوگئی۔
گزشتہ ماہ نجکاری کمیشن نے شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ کے تحت تمام پیشگی شرائط پوری ہونے کے بعد پی آئی اے کی نجکاری کے ذریعے حصص کی فروخت کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا اور ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول عارف حبیب کی قیادت والے کنسورشیم کے سپرد کردیا۔
























Comments